خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 573 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 573

خطبات طاہر جلدے 573 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء سیاست کا صرف دخل نہیں ہوا کرتا قوموں کی بہبود میں ، اندرونی طور پر بھی اُس کے اثرات مترتب ہوتے ہیں۔جب آپ کسی ایک قوم کے خلاف خواہ اُس نے آپ سے اچھا سلوک کیا ہو یا نہ کیا ہو نفرت کی تعلیمیں دیتے ہیں تو آپ کی قوم اندر سے پھٹنا شروع ہو جاتی ہے۔دو انتہا ئیں آپ کی قوم میں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ایک رائٹیسٹ کہلاتے ہیں ایک لیفٹسٹ کہلاتے ہیں اور بالآخر قوم دو نیم ہو جاتی ہے۔اگر تو فیصلہ ہو جائے کسی وقت اور ایک گروہ بہت زیادہ قوت کے ساتھ غالب آ جائے تو پھر نتیجہ نکلا کرتا ہے کہ ایک کمزور گروہ بیچارے کا قتل عام ہو جاتا ہے۔اپنے ہی ہم وطنوں کے ہاتھ اور اُن کو بری طرح سے ملیا میٹ کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ برابر رہیں یا فیصلہ کن فرق نہ ہو تو مسلسل ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہتے ہیں اور قومی مفادات کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔تو Polarisation تیسری دنیا کے ممالک کے لیے ایک زہر قاتل ہے اور نہایت ہی مہلک چیز ہے۔اس لیے نفرت خواہ روس کے خلاف پھیلائی جائے ، خواہ امریکہ کے خلاف پھیلائی جائے قوم کو بانٹ دے گی اور قوم کے لیے بالآخر نہایت مہلک ثابت ہوگی۔اس وقت پجہتی کی ضرورت ہے ایک قومی حکومت کی ضرورت ہے، قومی سیاست کی ضرورت ہے۔پہلے تھوڑا پاکستانی ، پاکستان کے خلاف بٹا ہوا ہے۔کہیں کوئی سندھی ہے، کہیں بلوچی، کہیں پنجابی کہیں پٹھان۔پھر ذاتوں میں بٹا ہوا۔ہے، پھر فرقوں میں بٹا ہوا ہے، پھر سیاسی تصورات میں پہلے کئی قسم کے تصورات میں بٹا ہوا ہے۔پھر فوجی غیر فوجی میں بٹا ہوا ہے، پھر مہاجر غیر مہاجر میں بٹا ہوا ہے۔اتنے رخنے ہیں ہماری وحدت میں کہ ان رخنوں پر اضافہ کرتے ہوئے قوم کو مزید رخنوں میں مبتلا کرنا اور قوم کے درمیان مزید فاصلے پیدا کرنا ہمارے لیے لازماً ہلاکت کا موجب بنے گا۔اس لیے اب ایسی جستجو کریں کوئی ایسے طریق اختیار کریں کہ قوم اکٹھی ہونے کی باتیں شروع کرے اور ایک وحدت پر جمع ہونے کے خیالات کو فروغ ملے۔یہ سب سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے۔خالی ۱۶ نومبر کا انتظار تو کوئی انتظار نہیں ہے۔پھر جب آپ فوج کے اس رویے کو دیکھتے ہیں اور گھل کر فوج کو یہ نہیں کہتے کہ اگر تم نے خیرات کے طور پر ہمیں حکومت دینی ہے یا امریکہ کے ایماء پر ہمیں حکومت دینی ہے تو ہم یہ حکومت نہیں لیں گے۔اُس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا کیونکہ طاقتور جب اپنی طاقت کو خود چھوڑتا ہے وہ ہمیشہ اس بات کی یقین دہانی پر چھوڑتا ہے کہ میں جب