خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 569 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 569

خطبات طاہر جلدے 569 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء ہوئی ہے۔اُن پر فوجیں مسلط کی جاتی ہیں اور بدنصیبی کی حد یہ ہے کہ آج کل ٹیلی ویژن کے اوپر کھلے لفظوں میں ان قوموں کے سر براہ اور بڑے بڑے لوگ یہ تبصرے کرتے ہیں کہ نہیں پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا ان پر ضرور کوئی جرنیل آجائے گا۔کچھ نہیں ہو گا سے مراد یہ ہے کہ سب کچھ ہو جائے گا۔یعنی بچ نہیں سکتا فکر نہ کرو پاکستان کو ہم نہیں بچنے دیں گے۔ضرور ان میں طاقتور جرنیل موجود ہیں۔وہ اُٹھیں اور اُس قوم پر قابض ہو جائیں یہ وہ ہلاکت ہے۔جس سے بڑھ کر کوئی ہلاکت تصور نہیں ہو سکتی۔آپ گھر میں چوکیدار رکھیں کہ آپ کی حفاظت کریں گے اور چوکیدار مالک بن جائیں اور آپ کو اپنا غلام بنا لیں اور آپ کو اپنی پرورش کرنے پر لگادیں۔آپ کے اموال کے مالک بن بیٹھیں ، آپ کی محنت کا بہترین پھل کھانے لگیں۔آپ کی آنکھوں کے سامنے اور اتنے طاقتور ہو جائیں وہ آپ کا خون چوس چوس کے کہ آپ کے تصور میں بھی یہ بات نہ آسکے کہ اُن کا مقابلہ کر سکیں۔یوں اس مثال کو بیان کیا جائے تو کتنی بھیا نک نظر آتی ہے لیکن بعینہ اسی طرح کے واقعات کسی تیسری دنیا میں ہو جاتے ہیں اور محب وطن فوجی بھی یہ نہیں سوچتے ہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔جب امریکہ کے ایک پروگرام میں میں نے سُنا امریکی ایک بڑے لیڈرکو یہ کہتے ہوئے کہ نہیں بڑا امکان اس بات کا موجود ہے کہ پاکستان میں سے کوئی جرنیل اُٹھے مرد اور وہ صورتحال کو قابو میں لے آئے۔تو مجھے یوں لگا جیسے میری آزادی ضمیر کے منہ پر کسی نے طمانچہ مارا ہے۔میرے وطن کی محبت کے منہ پر کسی نے طمانچہ مارا ہے۔اس قدر تکلیف دہ یہ صورتحال ہے۔ان بدبختوں سے کوئی یہ پوچھے کہ اگر کوئی باہر کے ملک تمہارے کسی سربراہ کے مرنے پر ایسے تبصرے کریں کہ کوئی بات نہیں امریکہ پر بھی فوج قابض ہو جائے گی۔کوئی بات نہیں، انگلستان پر بھی فوج قابض ہو جائے گی ، کوئی حرج کی بات نہیں ، فرانس پر فوج قابض ہو جائے گی ، جرمنی پر فوج قابض ہو جائے گی ، روس پر اُس کی فوج قابض ہو جائے گی تو تمہیں کیا محسوس ہوگا۔وہ تمہارا ہمدرد ہے یا کوئی بے حیادشمن ہے۔پس تم جب یہ کہتے ہو تو ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ تم پاکستان کے عوام کے ساتھی اور اُن کے دوست ہو۔سوائے اس کے کہ وہ دشمن ہو اور بے حیادشمن ہو وہ ایسی بات نہیں کر سکتا۔اگر ایسا ہی یہ نسخہ ہے اعلیٰ درجے کا تو اس میں سے وہ اپنی خرابیاں دور کرنے پر کیوں استعمال نہیں کرتے کیوں صدروں کے انتخابات پر اتنا وقت ضائع کر رہے ہو اور ارب ہا ارب ڈالرز ضائع کر رہے ہو تمہیں چاہئے کہ تم فوج کو