خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 568
خطبات طاہر جلدے 568 خطبه جمعه ۱۹ را گست ۱۹۸۸ء اور فوج میں یہ احساس پیدا کرے گی کہ ہم اپنے ہی ملک میں خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔جس وقت ہم طاقت سے باہر نکلیں گے ہماری قوم ہم سے انتقام لے گی اور جوں جوں یہ احساس فوج میں بڑھتا چلا جائے گا آپ کے آزاد ہونے کے امکانات دور تر ہوتے چلے جائیں گے۔اس لیے یہ ہم چاہے سندھ سے جاری ہو یا بلوچستان سے جاری ہو یا صوبہ سرحد سے جاری ہو یا پنجاب میں داخل ہو جائے ملک کے لیے نہایت مہلک ثابت ہو گی۔اس وقت فوج سے گفت و شنید کا وقت ہے ، فوج کو بعض باتیں سمجھانے کا وقت ہے۔ٹھنڈے دل کے ساتھ اس میں جذبات سے بالا ہو کر آپ کو کارروائی کرنی ہوگی۔امر واقعہ یہ ہے کہ غلام ملکوں کو انکی اپنی فوجوں کے ذریعہ مزید غلام بنایا جاتا ہے۔ایک ہاتھ سے آزادی دی جاتی ہے، دوسرے ہاتھ سے وہ آزادی چھین لی جاتی ہے اور اُن کی اپنی ہی فوجوں کو اُن پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ایک ایسی بھیانک شکل ہے جس شکل کو خوب کھول کر پاکستانی عوام کو اور اُن کے راہنماؤں کو اپنی فوج کے سامنے رکھنا چاہئے۔چند ایک ایجنٹس ہوتے ہیں جن کی ہم تعیین نہیں کر سکتے اللہ بہتر جانتا ہے اُن میں سے کون ہیں لیکن ہوتا یہ ہے کہ کوئی بیرونی طاقت کسی ملک کے دفاع پر قابض ہو جاتی ہے۔اُس کی مدد کے بہانے اور جب دفاع پر غیر قو میں قابض ہو جائیں تو خطرے کی جو بھی گھنٹی بجتی ہے اُس کی آواز اُن کانوں میں پڑتی ہے جو بظاہر حفاظت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں لیکن دراصل وہ خود قوم کے لٹیرے بن چکے ہوتے ہیں جنہوں نے بچانا تھا وہ اگر قابض ہو چکے ہوں تو بچائے گا کون؟ اس لیے فوجوں کی غلامی جو غریب ملکوں پر مسلط کی جاتی ہے اس سے بچنے کی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی۔اس کی شکل بالکل ایڈز جیسی بیماری سے ملتی جلتی ہے۔ایڈز بیماری جس کا آج کل بڑا چرچا ہے اُس کے خلاف سائنسدان اس لیے کوئی کاروائی نہیں کر سکتے کہ بیرونی جراثیم جسم کے صحت مند حصوں پر براہ راست قابض نہیں ہوتے بلکہ جسم کے دفاعی نظام پر قابض ہو جاتے ہیں۔اس لیے خطرے کی گھنٹی بجتی ہے تو وہ خود خطرہ میں اپنے لیے۔دفاع اُن کے قبضے میں ہوتا ہے۔وہ دفاع کو اپنے خلاف حرکت میں آنے نہیں دیتے کیونکہ دفاع پوری طرح اُن کے اپنے کنٹرول میں آجاتا ہے۔اس لیے یہ بہت ہی بڑی خطر ناک شکل ہے جو آج کل بد قسمتی سے تیسری دنیا کا مقدر بنی