خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 567
خطبات طاہر جلدے 567 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء بیرونی طاقتوں کا تعلق ہے وہ یہی کوشش کر رہی ہیں اور اس کوشش میں آئندہ چند دنوں میں زیادہ تیزی اختیار کریں گی۔یہ کہنا کہ ۱۶ نومبر کا دن پاکستان کے لیے آزادی کی خوشخبری لائے گا، یہ کہنا کہ ۱۶ نومبر کا دن پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کا دن ہو گا ایک سادہ سا خیال ہے۔اس میں پختگی نہیں ہے۔جب تک ہم اس بات کا تجزیہ نہ کریں کہ ہم سے اس سے پہلے کیا ہوتا رہا ہے۔اُس وقت تک ہم آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے اہل نہیں بن سکتے۔سوال یہ ہے کہ یہ جو اندرونی غلامی ہے ہمیں جو نصیب ہوئی ایک لمبے عرصہ تک، کیا اندرونی محرکات کے نتیجے میں ہوئی یا کچھ بیرونی محرکات بھی ہیں؟ کون سی زنجیریں ہیں جو ہمیں پہنائی گئی ہیں اور ۶ ارنومبر کے دن اب کیا معجزہ ہوگا جو یہ زنجیریں توڑ دے گا؟ پہلی بات خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جب تک بیرونی غلامی کی زنجیروں کو ہم نہیں توڑتے ہم نہیں آزاد ہو سکتے اور بیرونی غلامی کی زنجیروں میں امریکہ کی غلامی کی زنجیریں ہیں اس وقت جنہوں نے قوم کو ہر طرف سے باندھ رکھا ہے اور یہ وہ زنجیریں ہیں جنہوں نے ہماری فوج کو بھی جکڑا ہوا ہے اور جب فوج مسلط کی جاتی ہے تو کٹھ پتلی کی طرح مسلط کی جاتی ہے۔وہ خود بندھی ہوئی ہے اور جہاں تک پاکستان کے عوام کا تعلق ہے اُس پر دوہری زنجیروں کا بوجھ پڑ جاتا ہے۔ایک آقا کی زنجیریں اوپر سے اُس کے غلام کی زنجیریں۔سوال یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد اچانک یہ زنجیریں کیسے ٹوٹیں گی۔کیا امریکہ اپنے رویے میں تبدیلی پیدا کر لے گا ؟ جہاں تک میں نے غور کیا ہے اور جہاں تک میں نے بین الاقوامی خبروں کا مشاہدہ کیا ہے۔اُن کے یہ بدارا دے خوب کھل کر مجھے دکھائی دینے لگے ہیں کہ وہ دوبارہ دخل دیں گے اور ہر قیمت پر یہ کوشش کریں گے کہ پاکستان پر دوبارہ فوج مسلط کر دی جائے اور اس کے لیے کسی قسم کے بہانے ان کو مہیا کیے جائیں۔اس لیے محض ۱۶ تاریخ کا انتظار کرنا کافی نہیں ہے۔معاملے کو خوب اچھی طرح سمجھنا چاہئے اور اس کے متعلق مناسب کاروائیاں کرنی چاہئیں۔اس لئے میں اس معاملے کو نسبتاً زیادہ کھول کر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔پاکستانی فوج کی اکثریت محب وطن ہے اور قوم کے لیے فوج کو اپنی نفرت کا نشانہ بنانا جائز نہیں کیونکہ اگر قوم پاکستانی فوج کو اپنی آنکھیں بند کر کے اپنی نفرت کا نشانہ بناتی رہے گی تو دشمن کے ہاتھ مضبوط کرے گی