خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 566 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 566

خطبات طاہر جلدے 566 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء جہاز کے ساتھ اُڑ گئے ہیں اور اُن کے ساتھ ایک ایسا سفیر امریکہ کا بھی لقمہ اجل ہوا اور اُس کا ایک ساتھی جو اُن کے انٹلیجنس کے مانے ہوئے تجربہ کارلوگوں میں سے تھے۔تو جہاں تک دنیاوی سیاست کا تعلق ہے ایک بہت ہی بڑا سانحہ ہے اور بہت ہی بڑا نقصان ہے۔کسی فوج کے پانچ جرنیل اور پانچ چوٹی کے ماہر برگیڈیر ز ایک ہی سانحہ میں ہلاک ہو جائیں تو یہ کوئی معمولی نقصان نہیں ہے، یہ تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے دماغ کا مرکز اُڑ جائے اور فوج کا سربراہ بھی ساتھ شامل ہواُس کے علاوہ۔تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کتنا بڑا سانحہ اور کتنا بڑا نقصان ہے۔اس کے نتیجے میں بہت سے خاندان ہیں جن کو دکھ پہنچے ہیں اور جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں ان کے دکھ میں ہم اُن کے شریک ہیں۔تو ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے ایک اور پہلو سے دیکھیں تو اس واقعہ کا دوسرا رخ طلوع فجر سے ملتا جلتا ہے۔یعنی ایک پہلو اگر رات سے ملتا ہے تو دوسرا پہلو صبح کے پھوٹنے سے ملتا ہے کیونکہ ایک لمبی رات کہ بعد بالآخر وہ وقت قوم کو نصیب ہوا ہے جو طلوع فجر سے مشابہت رکھتا ہے اور امکان ہے کہ ایک دن اس کے بعد آئے جو سارے اندھیرے دور کر دے اور ہر قسم کے غموں کو دور کر دے، ہر قسم کی تاریکیوں کو ہٹا کر روشنیاں لے آئے لیکن قوموں کے معاملات میں رات اور دن اس طرح آگے پیچھے نہیں آیا کرتے۔جس طرح قانون قدرت میں ہمیں آگے یا پیچھے آتے دکھائی دیتے ہیں۔قانون قدرت میں رات اور دن اس لیے باقاعدگی سے آتے ہیں کہ خدا کی تقدیر با قاعدہ ہے اور خدا کی سنت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی ، اُس کا انتظام کامل ہے اُس میں کوئی رخنہ نہیں لیکن قوموں کے رات اور دن اُن کے اپنے اعمال سے وابستہ ہوا کرتے ہیں۔اُن کی بے قاعدگیاں ان دنوں اور راتوں کے تسلسل کو بے قاعدہ کر دیا کرتی ہیں۔اُن کی بے ضابطگیاں ان راتوں اور دنوں کے معاملات میں بے ضابطگیاں پیدا کر دیا کرتی ہیں۔اس لیے ضروری نہیں ہوا کرتا کہ رات کے بعد ضرور دن چڑھے۔بعض اوقات رات کے بعد اگر دن چڑھتا بھی ہے تو رات سے زیادہ بد تر دن چڑھتا ہے۔یعنی رات کے زیادہ مشابہ ہوتا ہے دن کی روشنی اُس میں کم پائی جاتی ہے۔اس لیے یہ وقت بہت ہی نازک ہے اور قوم کے سر براہوں کو خوب اچھی طرح اس صورتحال کا تجزیہ کرنا چاہئے اور پھونک پھونک کے اس میدان میں قدم رکھنا چاہئے۔آج اگر یہ موقع ہاتھ سے جانے دیا گیا تو ہوسکتا ہے اس گیارہ سالہ رات کے بعد ایک اور لمبی رات قوم کے اوپر مسلط کر دی جائے اور جہاں تک