خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 557 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 557

خطبات طاہر جلدے 557 خطبه جمعه ۱۲ راگست ۱۹۸۸ء مصطفی ﷺ کے اوپر تو نشانات کی بارش ہو رہی تھی۔آپ کا وجود خود ایک نشان تھا، عظیم الشان نشان تھا ایسا نشان کہ اس سے بڑھ کر سچائی کا کوئی نشان کبھی پیدا نہیں ہوا جو سرتا پاسچائی تھا۔ادنی سی فراست رکھنے والا انسان بھی جو آنحضرت ﷺ کی زندگی کے کسی دور سے بھی واقف ہو آپ کو جھوٹا قرار نہیں دے سکتا۔بچپن کے چند لمحے بھی جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوں، آنحضرت کے بچپن کے چند لمحے تو یہ کہ ہی نہیں سکتا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔بچوں کے چہروں پر بھی سچائی لکھی جاتی ہے ان کی فطرت کی پھر جوانی میں بھی وہ سچائی ظاہر ہوتی ہے پھر بڑھاپے میں وہ سچائی ساتھ دیتی ہے۔تو آنحضرت کا سب سے بڑا معجزہ تو خود محمد رسول اللہ اللہ تھے اور ان ظالموں کو دیکھیں کہ گستاخی یہ اور بدتمیزی کی بھی حد ہے قسمیں کھا رہے ہیں خدا کی اور کہہ رہے ہیں کہ ہاں مان جائیں گے ایک نشان تو دکھاؤ، ایک نشانی بھی نہیں دکھا سکے۔بعض احمدی جب غیر احمدی علماء سے حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ بات کرتے ہیں تو بڑی تکلیف محسوس کرتے ہیں اور کلبلانے لگتے ہیں یہ کیا حرکت کر رہے ہیں کہتے ہیں ایک نشان بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حق میں ظاہر نہیں ہوا۔چنانچہ شرعی عدالت نے یہی بیان دیا ہے کہ مرزا صاحب کے باقی معجزات کی کثرت کا سچا ہونا تو الگ بات ہے ایک بھی پیشگوئی بھی مرزا صاحب کی بچی نہیں نکلی۔لا پس یہ سنت الا ولین ہے جو اپنے آپ کو دہراتی ہے یہی وہ تقدیر ہے یہی وہ تاریخ ہے جو ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے، اور ہمیشہ لوگ اس کو دیکھنے کے باوجود اندھے ہو جاتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرارہی ہے۔فرمایا: قُلْ إِنَّمَا الأيتُ عِنْدَ اللهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ کہ ان سے کہہ دو خدا کے پاس نشانوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔بے انتہا نشان ہیں سب نشان اس کے پاس ہیں۔وَمَا يُشْعِرُ كُم تم عقل کے اندھوں کو کس طرح ہم یہ بات سمجھا دیں، کیا بات سمجھا سکے گی۔أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ کہ جب بھی وہ نشان آئیں گے یہ ایمان نہیں لائیں گے۔اس لیے دیکھیں کتنی نادانی کی اور کتنی غلطی کی جب میں نے آپ سے یہ کہا کہ یہ دعا کریں کہ ایسے معجزے ظاہر ہوں، ایسے نشان ظاہر ہوں کہ یہ سارے ایمان لے آئیں ہر گز نشانوں کو دیکھ کر تو میں ایمان نہیں لایا کرتیں۔اگر نشانوں کو دیکھ کر تو میں ایمان لایا کرتیں تو تمام گزشتہ انبیاء کی تاریخ بالکل مختلف طور پہ ظاہر ہوتی ، بالکل اور رنگ میں لکھی جاتی۔اس لیے ایک ہی طریق ہے جس کے ذریعے