خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 553
خطبات طاہر جلدے 553 خطبه جمعه ۱۲ را گست ۱۹۸۸ء ان آیات پر غور کرتے ہوئے انسان کا ذہن اس طرف بھی منتقل ہوتا ہے کہ سارے قرآن میں کہیں مومنین کے لیے ہلاکت کا ذکر نہیں آیا خواہ وہ غلط ہی ایمان لانے والے ہوں۔ڈرایا گیا ہے مکذبین کو ان کی تکذیب سے اور کہیں یہ نہیں فرمایا گیا کہ دیکھو غلطی سے فلاں لوگ ایمان لے آئے تھے ہم نے اُن کو ہلاک کر دیا ہے۔غلطی سے وہ لوگ ایک جھوٹے کو سچا سمجھ بیٹھے تھے ہم نے اُن کو تباہ کر دیا ہے۔سارے قرآن میں ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ جس میں خدا تعالیٰ نے اس صورت حال سے متنبہ فرمایا ہو کہ دیکھو فلاں قوم نے غلطی سے ایک ایسے شخص کو قبول کر لیا تھا جس کو میں نے نہیں بھیجا تھا اور دیکھو وہ کس طرح ہلاک کئے گئے اور کس طرح تباہ کئے گئے۔یہ خدا تعالیٰ کی رحمت اور اس کی شان ہے ایمان لانے والا اگر سچے دل سے ایمان لاتا ہے۔تو اس کے لیے کوئی خوف نہیں کوئی اور کوئی ہلاکت نہیں۔لیکن تکذیب کرنے والے کے لیے ہلاکتیں ہیں اور متعدد باران ہلاکتوں کا قرآن کریم میں اس طرح کھول کھول کر ذکر فرمایا گیا ہے کہ کسی پر یہ مضمون مشتبہ نہیں رہنا چاہئے۔پس اس موقع پر جبکہ مباہلہ کی دعوت غیروں کو دی گئی ہے اس وجہ سے خصوصیت سے کہ یہ استہزا میں بڑھ رہے ہیں اور اپنے گزشتہ کردار میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر رہے۔استہزا میں بھی بڑھ رہے ہیں، ظلم میں بھی بڑھ رہے ہیں اور حکومت کا جہاں تک تعلق ہے وہ معصوم احمد یوں پر قانونی حربے استعمال کر کے طرح طرح کے ستم ڈھارہی ہے اور آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے آغاز ہی میں حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ آپ اگر اپنی شان کے خلاف بھی سمجھتے ہوں چیلنج کو قبول کرنا اگر آپ زیادتیوں سے باز نہ آئے اور ظلم وستم کی یہ راہ نہ چھوڑی تو جہاں تک میں سمجھتا ہوں خدا کی تقدیر اسے مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے کے مترادف بنائے گی اور آپ سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔تو یہ حالات جس طرف اشارہ کر رہے تھے وہاں تک ہمارے ظن کا تعلق تھا۔اندازہ ہو رہا تھا کہ بہت سے ایسے مکذبین ہیں جو شرارت سے باز نہیں آرہے بلکہ تمسخر اور استہزا میں اور ظلم وستم میں بڑھ رہے ہیں۔چنانچہ سارے پاکستان میں بار بار یہ کوشش کی گئی ہے علماء کی طرف سے کہ اس مباہلے کو ابتہال کی بجائے اشتعال کا ذریعہ بنایا جائے اور کثرت کے ساتھ احمدیوں کے خلاف عوام الناس کے جذبات مشتعل کر کے اُنھیں ان کو مارنے پیٹنے قبل کرنے ، لوٹنے اور ان کے گھر جلانے پر آمادہ کیا جائے۔وہ سمجھتے ہیں اس طرح ہم ایک اپنی تقدیر ظاہر کریں گے۔جہاں تک خدا تعالیٰ کی تائید کا تعلق ہے کوئی اُن کے بیانات