خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 552
خطبات طاہر جلدے 552 خطبه جمعه ۱۲ /اگست ۱۹۸۸ء میں ظاہر ہی نہیں ہوتے۔ہمیشہ وہی چکر ہے جو اپنے آپ کو دوبارہ ظاہر کرتا چلا جاتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس محاورے میں جان ڈال دی ہے یہ متوجہ فرما کر کہ تاریخ اس طرح دہرایا کرتی ہے کہ خدا کی کچھ سنتیں ہیں جن میں تم کوئی تبدیلی نہیں دیکھو گے اور بد کرداروں اور مجرموں کے حق میں وہ سنتیں اس طرح ظاہر ہوا کرتی ہیں۔اس لیے اس History کو تم کبھی بھی تبدیلی نہیں کر سکتے یہ بہر حال اپنے آپ کو دہرائے گی۔تو میں دیکھتا ہوں وہ جو تائید میں بولنے والے تھے ان کے چہرے بشاشت میں کھلکھلا اٹھتے ہیں کہ ہاں اب سمجھ آئی کہ یہ مضمون کیا ہے اور جن کی طرف جو ایک صاحب اعتراض کر رہے تھے ان کے اندر بھی اعتراض میں گستاخی نہیں تھی بلکہ ایک پوچھنے کا رنگ تھا۔اُن کے چہرے پر اس طرح بشاشت تو نہیں آئی لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بات سمجھ گئے ہیں۔اس رؤیا سے مجھے خیال آیا کہ اس مضمون کے متعلق میں آج آپ کے سامنے کچھ بیان کروں اور آپ کو دعا کی طرف متوجہ کروں کیونکہ یہ بہت انذاری رؤیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس قوم کو آج ہم مخاطب کر رہے ہیں ، جس کو ہم نے مباہلے کی دعوت دی ہے بدقسمتی سے اُن کے مقدر میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا دن دیکھنا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ اس طرح میرے ذریعے پیغام نہ دیتاHistory repeats itself اس میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھو گے، مجرموں کو خدا ضرور سزادے گا۔اس لیے وہ آیات جو میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی ہیں یہ وہی تاریخ ہے جو دہرائی جا رہی ہے جس کا ذکر خدا تعالی قرآن کریم میں بار بار ذکر فرماتا ہے فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِبِينَ اور تم خوب دنیا میں سیاحت کرو اور گھوم پھر کے دیکھو تم دیکھو گے کہ مکذبین کی عاقبت اُن کا انجام بہت برا ہے۔گیف میں یہ نہیں فرمایا کہ برا ہے مگر جب ایک چیز بہت ہی زیادہ درجے تک پہنچ جائے تو وہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑا کرتی کے برا ہے یا اچھا ہے۔لفظ گیف ہی بتا دیتا ہے کہ دیکھو دیکھو کیسا اُن کا انجام ہے۔پس جب بدی حد کو پہنچ جائے تو اس کے لیے لفظ گیف ہی استعمال ہوگا اور جب کوئی خوبی حد کو پہنچ تو اُس کے لیے بھی لفظ گیف ہی استعمال ہو گا لیکن دوسری آیت جوالطور کی ہے اُس میں اس مضمون کو اور بھی کھول دیا۔بیان فرمایا: فَوَيْلٌ يَوْمَبِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ہلاکت ہے اس دن اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے تکذیب کی راہ اختیار کی ہے۔