خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 542 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 542

خطبات طاہر جلدے 542 خطبه جمعه ۵/اگست ۱۹۸۸ء تقسیم ہوا تو ان صاحب، عاشق حسین صاحب نے ایک جلوس اکٹھا کیا۔اُس میں نہایت اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں اور اُس جلوس کو اس بات پر آمادہ کیا گیا کہ چند احمدی گھر اور چند احمدی دکانیں یہاں ہیں۔ان کا مباہلہ تو ہم یہیں پورا کر دیتے ہیں۔یعنی مباہلے سے مراد ان کا یہ تھا، یہ سمجھے کہ قتل عام کر دیا جائے یہی مباہلہ ہے۔تو اُن کی دکانیں لوٹو جلاؤ ، اُن کو اپنے گھروں میں زندہ جلا دیا قتل کرو تا کہ دنیا کے سامنے یہ ثابت ہو جائے کہ احمدی جھوٹے ہیں اور ان کا مباہلہ ان کو پڑ گیا ہے۔یہ ارادے باندھ کے جلوس تیار کر کے انہوں نے کہا کہ آپ انتظار کریں میں ابھی دکان سے ایک کام ہے چھوٹا سا وہ کر کے ابھی آتا ہوں۔دکان میں پہنچ پنکھا چلایا اور وہی پنکھا جو روز چلایا کرتے تھے اُس میں بجلی کا کرنٹ آچکا تھا اور وہیں مرگئے بجلی کے جھٹکے سے۔یہ جو بجلی سے مرنا ہے یہ بھی اپنے اندر ایک قہری نشان رکھتا ہے کیونکہ بجلی کا آسمان سے بھی تعلق ہے اور وہ جلوس جو احمدیوں کے گھر اور اُن کی دکانیں جلانے یا اُن کو مارنے لوٹنے کے لیے بنایا گیا تھا۔وہ ان کی تجہیز و تکفین میں مصروف ہو گیا اور اُن کے جنازے کا جلوس بن گیا۔اُس کے بعد کہتے ہیں وہاں ایک موت کی سی خاموشی طاری ہو گئی ہے اور اُس شہر میں اب کوئی مباہلے کی بات نہیں کرتا، کوئی اشتعال کی بات نہیں کرتا کیونکہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے یہ نشان دیکھ لیا ہے لیکن یہ ایک نشان کافی نہیں ہوگا کیونکہ اکثر لوگ پھر بہانے بناتے ہیں۔ہر نشان کے بعد کچھ عرصے کے بعد اُس کی تاویل کرنی شروع کر دیتے ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ شاید اتفاق ہو گیا ہو۔اس لیے اس قسم کے نشانات کا ایک جلوس نکلنا چاہئے اور یہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ بار بار اس قوم کو غافل نہ ہونے دے ، نشان پر نشان دکھائے جو ان کا پیچھا نہ چھوڑیں یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت کی صداقت روز روشن کی طرح ظاہر ہو جائے۔اللہ کرے کہ اس قوم کو سمجھ آئے اور یہ تقویٰ کی راہ اختیار کریں۔ایک اور شدید معاند احمدیت کے متعلق مجھے اطلاع ملی ہے مجیب الرحمان صاحب ایڈووکیٹ فون پر بتاتے ہیں کہ ۸۴ء میں شریعت کورٹ میں ایک شخص قاضی مجیب الرحمان پشاوری نے جماعت کے خلاف انتہائی شرانگیز بیان دیئے اور یہ وہ شخص ہے جس نے ٹیلی ویژن پر جماعت کے خلاف ارتداد کی بناء پر واجب القتل ہونے کا فتویٰ دیا۔اس مباہلے کے چیلنج کے کچھ عرصے کے بعد اچانک یہ صاحب دل کا دورہ پڑنے سے مر گئے ہیں اور چونکہ یہ وہ صاحب ہیں جن کے متعلق