خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 541 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 541

خطبات طاہر جلدے 541 خطبه جمعه ۵/اگست ۱۹۸۸ء اکثریت بچ جائے ، اکثریت اس نشان کو دیکھے، اکثریت اس نشان سے فائدہ اُٹھائے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ اس مباہلے کے بعد احمدیت ایک عظیم الشان طاقت کے طور پر ابھرے اور اتنا عظیم نشان ظاہر ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ علاقوں کے علاقے مسلمانوں کے احمدیت کے ساتھ شامل ہو جائیں اور وہ فتح کا دن جو ہمیں دور دکھائی دے رہا ہے۔اس بڑھتی ہوئی پھیلتی ہوئی توانا تر ہوتی قوت کے ساتھ جلد تر ہمارے قریب آجائے اور تمام دنیا پر ہم آنحضرت ﷺ کے دین کا جھنڈا نصب کر سکیں۔یہ مدعا ہے اس مباہلے کا اس لیے دعاؤں کے ذریعے یہ کام ہو گا۔ابتہال کا مضمون ہے اس کو بار بار بیان اس لیے کرتا ہوں ، نہ بھلائیں جتنا دشمن گالیاں دیتا چلا جا رہا ہے شرارت میں بڑھ رہا ہے۔آپ کے لیے اور موقع ہے کہ ابتہال کی طرف متوجہ ہوں۔دو قسم کے میدان ظاہر ہوں گے ایک میدان میں گالی گلوچ ، شور شرابا تضحیک تمسخر اور شر انگیزی کی باتیں سنائی دے رہی ہوں گی اور ایک میدان میں خالصہ عجز ، ابتہال ، خدا کے حضور گریہ وزاری ، خشوع وخضوع کی وجہ سے شور برپا ہوا ہو گا۔اس میدان سے وابستہ رہیں جو خشوع و خضوع اور ابتہال کا میدان ہے۔اگر آپ یہ کریں گے تو اس میدان میں کبھی کسی نے بازی نہیں ہاری۔یہ میدان ہمیشہ جیتے ہوؤں کا میدان ہوا کرتا ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بعض نشان ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور ہم ان کو مرتب کر رہے ہیں۔انشاللہ تعالیٰ اس سال کے اختتام تک ایک پوری کتاب جماعت احمدیہ کی صداقت کے مضمون کو ظاہر کرنے والی شائع ہوگی۔جس میں ہم ان تمام واقعات کو مرتب اور مؤلف کر کے دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔مثال کے طور پر چھوٹا سا واقعہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ضلع شیخوپورہ میں ایک جگہ ہے شاہکوٹ یہ قصبہ ہے جہاں احمدیوں کے چند گھرانے ہیں اور وہ چند دکان دار ہیں جو اس قصبے میں رہتے ہیں۔وہاں ایک صاحب تھے عاشق حسین نامی جو زرگر کا کام کرتے تھے اور ایک لمبے عرصے سے جماعت احمدیہ کی مخالفت میں اور جماعت احمدیہ پر گند اُچھالنے میں اتنا پیش پیش تھے کہ مولوی نہ ہونے کے باوجود بھی یہ مخالف علماء کے سر براہ بن گئے اور احمدیت کے مخالف ٹولے میں ان کو ایک نمایاں مقام حاصل ہو گیا۔چنانچہ جب بھی احمدیت کی مخالفت کا معاملہ ہو یہ ایک از خود ہی اُس مخالفت کے سربراہ کے طور پر ابھرتے تھے۔جب یہ مباہلے کا چیلنج وہاں