خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 540
خطبات طاہر جلدے 540 خطبه جمعه ۵ اگست ۱۹۸۸ء جسم ہو جاتے ہیں کبھی کم ہو جاتے ہیں اور جب الیکشن کے وقت آتے ہیں اُس وقت آپ دیکھ لیں کہ اکثر خالی سر رہ جاتے ہیں الیکشن میں کامیاب ہی نہیں ہوتے اور ان کے جسم جن کو اپنے جسم سمجھتے ہیں ہیں اور کواپنے سجھتےہیں ہی یعنی اپنے مرید اور اپنے پیچھے چلنے والے اپنے آپ کو سید سمجھتے ہیں جن کا ، وہ لوگ ان کا ساتھ چھوڑ اور سید کا ، وہ دیتے ہیں ۔ الیکشن میں الف ۔ ب۔ ج ۔ کسی سیاسی لیڈر کو ووٹ دے دیتے ہیں ان کو نہیں دیتے ۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہو گا کہ اگر دیو بندی علماء نے چیلنج قبول کر لیا ہے، یا سندھ کے علماء نے چیلنج قبول کر لیا ہے حقیقہ بھی کر لیا ہے۔ تو تمام دیو بندی علاقے پر لعنت پڑے گی یا تمام سندھ پر لعنت پڑے گی یہ عقل کے خلاف ہے کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔ میرے علم کے مطابق مثلاً سندھ میں کہتے ہیں اخبار میں سرخی آئی ہے کہ سینکڑوں علماء نے سندھ سے چیلنج قبول کر لیا ہے لیکن چونکہ سندھ کی بھاری اکثریت ان علماء کے ساتھ نہیں ہے اور آئندہ الیکشن بھی آپ کو بتا دیں گے کہ شاید ہی کوئی عالم منتخب ہو کے اس علاقے سے نکلے۔ ورنہ بھاری اکثریت ان کو رد کر دے گی ۔ اس لیے آپ کا اُس معصوم اکثریت کو اپنی لعنت میں شامل کر لینا ظلم ہوگا۔ اس لیے خدا تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ صرف وہ معاندین تیرے عذاب کے نیچے آئیں اور عبرت کا نشان بنیں جنہوں نے عمداً جانتے بوجھتے حق کی مخالفت کا بیڑہ اُٹھا رکھا ہے۔ کوئی حیا نہیں ان میں ، کوئی شرم باقی نہیں رہی اور کھلم کھلا کذاب ہیں اور شرارت اور افتراپردازی سے باز نہیں آرہے اور اُن کے وہ مرید اور ماننے والے جو ہمیشہ فساد میں اُن کا ساتھ دیتے ہیں اور جب وہ انہیں معصوم انسانوں پر ظلم کے لیے بلاتے ہیں تو لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں ۔ صرف ان کو اپنے عذاب کا ا نشان بنا اور عبرت کا نشان بنا باقی اکثریت جو معصوم ہے یا تماش بین ہے، کمزور ہے، گناہ گار سہی ، کئی قسم کی خرابیوں میں ملوث سہی لیکن آخر محمد مصطفی ﷺ کی امت ہے۔ اُن کو اپنے عذاب اور اپنی پکڑ سے یا عقوبت سے بچالے۔ صلى الله اس لیے میں جماعت کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے مباہلے کی دعا میں بھی اس بات کو نہ بھولیں کہ ہمارے آقا و مولی حضرت محمد مصطفی رحمت للعالمین تھے اور آپ کی رحمت کا فیض بھی ہمارے ہاتھوں سے ہمیشہ جاری رہنا چاہئے ۔ اگر عبرت کے نشان کے ساتھ ساری قوم ہی مٹ جائے تو پھر حق کو قبول کون کرے گا ۔ اس خیال سے بھی تو آپ کو یہ سوچنا چاہئے کہ دعا یہ ہونی چاہئے کہ