خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 539 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 539

خطبات طاہر جلدے 539 خطبه جمعه ۵راگست ۱۹۸۸ء ضرور مانگیں اور یہ دعا ضرور کریں کہ وہ علماء جو بد کلامی سے باز نہیں آرہے ، جو مباہلے کے مضمون کو بھی دھوکے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور مزید خلق خدا سے مکر وفریب سے کام لے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کے مکر وفریب ننگے کر دے ، اُن کے جھوٹ ظاہر فرما دے اور انہیں عبرت ناک سزائیں دے۔تا کہ دنیا اُن کی سزاؤں سے استفادہ کرے اور وہ جو ڈرنے والے ہیں اور وہ خاموش اکثریت جو دراصل تماشا مین ہے اُسے بھی اس عذاب سے بچائے کیونکہ میرے علم کے مطابق اور جو خبریں مجھے پاکستان سے مل رہی ہیں اُن پر بنا کرتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت پاکستان کی بھاری اکثریت مباہلے میں فریق مخالف کے ساتھ ملوث نہیں ہے۔اکثر جگہوں سے ایسی اطلاعیں مل رہی ہیں کہ عوام الناس علماء کو جھوٹا سمجھنے لگ گئے ہیں اور کھلم کھلا یہ باتیں شروع کر چکے ہیں۔خصوصاً اسلم قریشی والے واقعہ کے بعد جب انہوں نے تاویلیں کیں اور جھوٹ پر جھوٹ بولے تو یہ مجھے اطلاع مل رہی ہے کہ اُس کے اوپر بڑے کھلے تبصرے ہو رہے ہیں۔بازاروں میں ،گلیوں میں، بسوں میں، گاڑیوں میں ، ہر جگہ اب عوام یہ باتیں کر رہے ہیں کہ یہ ہیں جھوٹے۔اس لیے بظاہر یہ لوگ اُن کے بھی امیر ہیں ، ان کے لیڈر ہیں اور جب مباہلہ کیا جا تا ہے تو لیڈ ر کے ساتھ قوم بھی شامل ہوتی ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے بظاہر یہ بات ہے۔فی الحقیقت پاکستان میں جو علماء کی حالت ہے وہ ایسے سروں کی سی ہے جن کے نیچے سے جسم بدلتے رہتے ہیں۔یہ کوئی مستقل جڑے ہوئے سر نہیں ہیں کسی جسم کے ساتھ بلکہ آپ ان کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔آپ کو معلوم ہوگا کہ بعض دفعہ یہ سر ہی سررہ جاتے ہیں اور کوئی جسم ان کے ساتھ نہیں ہوتا۔چنانچہ جب پاکستان کی تحریک چلی ہے تو یہ علماء یہ سمجھتے تھے یعنی خصوصاًہمارے یہ معاند علماء جن کو تحفظ ختم نبوت والے یا احراری علماء کہا جاتا ہے یا دیوبندی علماء کے نام سے مشہور ہیں یہ سمجھتے تھے کہ بڑی تعداد میں بھاری اکثریت عوام الناس کی ہمارے ساتھ ہے اور مذہبی لحاظ سے یہ ان کے راہنما تھے بھی۔ایسے علاقے جو سارے کے سارے، بعض صوبے کے صوبے تقریباً دیو بندی ہیں۔وہ ان کے پیچھے تھے بظاہر لیکن جب امتحان کا وقت آیا جب مصیبت میں قائد اعظم نے اپنی طرف آنے کی دعوت دی تو ان علماء کے جسم ان سروں کو اکیلا لٹکتا ہوا چھوڑ گئے اور وہ سارے کے سارے قائد اعظم کے نیچے آگئے اور قائد اعظم کی قیادت کو قبول کر لیا۔پھر مختلف وقتوں میں کبھی اُن کے پیچھے زیادہ