خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 533
خطبات طاہر جلدے 533 خطبه جمعه ۵ اگست ۱۹۸۸ء - فرماتا ہے کہ ہم پھر انتہال کریں اور انتہال کے بعد اللہ تعالیٰ کی لعنت جھوٹے پر ڈالیں ۔ لَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ ۔ اب جھوٹے پر خدا کی لعنت ڈالنے میں کون سے مقام کی ضرورت ہے، کون سے ملک یا کسی خاص صوبے، علاقے یا شہر کی ضرورت ہے۔ سارے قرآن میں اس کا کوئی کی ذکر نہیں ملتا۔ پھر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے پہلے بھی آنحضرت میااللہ جن کو مباہلے کا چیلنج دے رہے تھے اُن کے بیوی بچے ، مرد، عورتیں بڑے چھوٹے سارے اُس جگہ سے بہت دور تھے اور ہر گز یہ مقصود نہیں تھا کہ پہلے اُن کو سب کو یہاں لے کے آؤ پھر مباہلہ قبول ہوگا ۔ اس لیے یہ جانتے بوجھتے یا تو لا علم بنتے ہیں اور یا پھر ان کو مباہلے کے مضمون سے ہی واقفیت کوئی نہیں ہے۔ عروسه دوسرا نمایاں پہلو یہ ظاہر ہوا ہے کہ ان کو لفظ انتہال کا معنی بھی نہیں پتا۔ انتہال کا مطلب ہے خدا کے حضور گریہ وزاری کرنا، اپنا سب کچھ خدا کے قدموں میں ڈال دینا اور اُس سے یہ عرض کرنا کہ اب سب کچھ تیرے قبضہ قدرت میں دیتے ہیں ، وہ پہلے بھی تیرے قبضہ قدرت ہی میں ہے لیکن طوعاً اپنی مرضی سے یہ منت کر کے تیرے قدموں میں ڈالتے ہیں کہ اگر ہم جھوٹے ہیں تو ہمیں کلیہ ہلاک کر دے۔ یہ ہے انتہال کا معنی اور انہوں نے انتہال کا معنی گالیاں دینا سمجھ لیا ہے۔ گالیوں کا مقابلہ تو ہے ہی نہیں ۔ گالیوں کا مقابلہ تو ہم پہلے بھی نہیں کر سکے ان سے کبھی ۔ یکطرفہ گالیاں دیتے چلے گئے ہیں لیکن ہم اُس کے مقابل پر خاموشی اختیار کرتے رہے ہیں۔ ابھی بھی انگلستان میں جو چند علماء ہیں انہوں نے ایک پمفلٹ شائع کیا ہے نہایت ہی گندے ، لغو اعتراضات پر مشتمل یہ ہمارا مباہلے کا چیلنج قبول کرنا ہے اور ان سارے لغو اور بے ہودہ اعتراضات کو دہرایا ہے جس سے پہلے وہ جماعت کو متہم کرتے رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے ان بیچارے علماء کو مباہلے کے معنے ہی نہیں آتے۔ پھر یہ انتہال کا معنی شاید اشتعال سمجھتے ہیں ۔ چنانچہ پاکستان میں جگہ جگہ علماء نے یہ اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ہمیں اشتعال دلایا ہے ، انتہال کی طرف بلا کر اور حکومت کو کہہ کر معصوم احمدیوں کو جگہ جگہ اذیتیں بھی دی گئیں ، قید میں ڈالے گئے ۔ اب تک کی جو اطلاع ملی ہے بہت سے تو ایسے احمدی ہیں جو کہ ابھی گرفتار نہیں ہو سکے لیکن جو گرفتار ہو چکے ہیں اُن کی تعداد ۴۵ ہے اور ان پر کئی قسم کے مقدمے کھڑے کیے گئے ہیں ۔ جو مباہلہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں لے جایا جاتا ہے ، جس کا معاملہ دنیا کی عدالت سے ہے ہی نہیں اُس کے فیصلے یہ دنیا میں چاہتے ہیں اور عجیب انصاف ہے کہ مباہلے کا چیلنج