خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 525
خطبات طاہر جلدے 525 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۸۸ء ایسا خرچ جو ٹالا جاسکتا ہولیکن اتنا نہ ٹالا جائے کہ پھر خرچ کا وقت نہ رہے۔اُس خرچ کو ٹالنا چاہئے سر دست۔مثلاً جب مہمان آتے ہیں تو ہر میزبان تیار ہوا کرتا ہے لیکن اگر پختہ پتا نہ ہو کہ مہمان کب آئے گا۔تو ہر امکان کے وقت پورا کھانا تیار کر کے نہیں بیٹھتے لوگ بلکہ احتیاطاً تیاری رکھتے ہیں کہ اگر آگیا تو تھوڑے عرصے میں ہی ہم جو خدمت ہو سکی کریں گے اور کچھ ایسی چیزیں ہیں جو پہلے سے کرنی پڑتی ہیں۔مہمان آئے یا نہ آئے پہلے ہی کرنی پڑتی ہیں۔اس پہلو سے تو جماعت کے لیے ایک رستہ موجود ہے کچھ انتظار کا ، کچھ احتیاط کا لیکن اس طرح کے میزبان نہ بنیں جس طرح مجھے بسا اوقات دیہاتی جماعتوں میں تجربہ ہوا ہے کہ جب تک مہمان پہنچ نہ جائے اُس وقت تک مرغی نہیں پکڑی جاتی۔چنانچہ ایسا ہوا ہے کہ رات کے گیارہ بجے ہم پہنچے ہیں کیونکہ دورے میں وقت کی پابندی تو نہیں ہوا کرتی۔ایک گاؤں میں دیر ہوگئی ، کچھ اُس سے اگلے گاؤں میں دیر ہوگئی ، کچھ اُس سے اگلے گاؤں میں دیر ہو گئی۔چنانچہ ایک گاؤں میں گیارہ بجے پہنچے ہیں اور بٹھایا اور حال احوال پوچھا اور تھوڑی دیر کے بعد مرغیوں کی شور کی آواز آنا شروع ہوگئی۔چیخنم چہاڑہ مچ گیا کہ مرغیاں پکڑی جارہی ہیں۔کیوں یہ کیا ہو گیا اس وقت ؟ آپ کو کھا نا وانا کھلانا ہے تیاری کرنی ہے۔تو تھے وہ تیار ذہنی طور پر لیکن جس طرح ہمارا دیہاتی انداز ہے تیاری کا اُسی طرح تیار تھے۔ہمارے ملک کی بعض رسمیں ہیں مجھے اُن سے ڈر لگ رہا ہے۔جماعت کے اخلاص سے ڈر نہیں ہے۔جماعت تو اللہ کے فضل سے مخلص اور عاشق جماعت ہے ہر قربانی کے لیے تیار ہے لیکن ہر ملک کے حالات ہوتے ہیں اُن کی رسمیں ہیں جو اثر انداز ہو جایا کرتی ہیں۔پنجاب کی ،سندھ کی، صوبہ سرحد کی سب کی رسمیں ہیں اپنی اپنی اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کی رسمیں خدا تعالیٰ کی خاطر جو جشن منانا ہے اُس کے استقبال پر اثر انداز نہ ہوں۔اس پہلو سے میں آپ کو متنبہ کر رہا ہوں۔ہر ملک کے حالات کے مطابق روزانہ تجربہ نہیں ہوتا ہے۔یہاں یورپ انگلستان میں یا یورپ میں کہیں جب آپ موٹر چلاتے ہیں تو ہارن دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی بلکہ ہارن اُس وقت دیا جاتا ہے جب کسی دوسرے شخص کی بے عزتی کرنی ہو۔اُسے یہ بتانا ہو کہ تم بہت ہی بد تمیز ڈرائیور ہو اور تم نے یہ غلطی کی ہے اس لیے ہارن بجا رہا ہوں میں، ورنہ کہیں کسی ہارن کی کوئی ضرورت نہیں پیش آتی اور بعض ملکوں میں ہارن کے بغیر لوگ نہیں سنتے ، ہٹتے ہی نہیں لیکن وہاں اُن میں بھی فرق ہے۔ہارن اگر آپ