خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 517 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 517

خطبات طاہر جلدے 517 خطبہ جمعہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء کے ساتھ رہیں اور اُس دکھ کو برداشت کر کے پھر اخلاق کا ثبوت دیں۔اگر آپ ان کمزوریوں کو دیکھیں اور آپ کی روح بے چین نہ ہو جائے تو خدا کی قسم آپ حوصلے والے نہیں ، آپ مردہ ہو چکے ہیں۔تکلیف کی آزمائش کے وقت حوصلہ دکھانا اور ان محرکات کے وقت غصے کو قابو میں رکھنا جبکہ انسان لازما طیش کا شکار ہو جاتا ہے اس کو حوصلہ کہتے ہیں اور تربیت کے لئے اس حو صلے کی ضرورت ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق ایک ایسے صحابی روایت کرتے ہیں جو ایک لمبے عرصے تک اسلام سے غافل رہے اور صحراء میں انہوں نے پرورش پائی اس لئے شہروں کے آداب اور اخلاق اور اطوار سے وہ نا واقف تھے وہ کہتے ہیں کہ جب میں پہلی دفعہ مدینہ میں حاضر ہوکر مسلمان ہوا تو مجھے نہ تو شہری تہذیب و تمدن کا کوئی حال معلوم تھا نہ نماز کے آداب سے واقفیت تھی چنانچہ نماز کے دوران میں نے ایسی حرکتیں کیں جو نماز میں نمازی کو زیب نہیں دیتیں۔وہ کہتے ہیں کہ جب نماز ختم ہوئی تو ارد گرد سے صحابہ کی نظریں اس طرح پڑیں جیسے مجھے کھا جائیں گے کیونکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام تھے اور وہ جانتے تھے کہ آپ کی نماز میں یہ حرکتیں خلل انداز ہوئی ہیں اور یہ چیز وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔انہوں نے محسوس کیا کہ جیسے خونی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہے ہیں سارے کہ یہ میں نے کیا خبیثانہ حرکتیں کی ہیں۔کہتے ہیں میں نے خوف محسوس کیا لیکن اچانک میری نظر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر پڑی آپ کی آنکھوں میں پیار بھرا ہوا تھا۔ایسی محبت تھی، ایسی شفقت تھی کہ جیسے ماں بہت ہی پیار کی حالت میں اپنے بچے کو دیکھ رہی ہو۔آپ نے فرمایا دیکھو نماز میں یوں نہیں کیا کرتے یوں کیا کرتے ہیں، آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ نماز کس طرح پڑھا کرتے ہیں (مسلم کتاب المساجد حدیث نمبر: ۸۳۶) ایسی ایک نہیں دو نہیں بیسیوں مثالیں ہیں بڑوں کے ساتھ بھی آپ نے شفقت کا اور حکم کا ثبوت دیا ، چھوٹوں کے ساتھ بھی آپ نے ایسا ہی سلوک فرمایا ، جاہلوں کے ساتھ بھی عالموں کے ساتھ بھی۔یہ وہ مربی ہے جو ساری دنیا کو زندہ کرنے پر مامور فرمایا گیا تھا۔اس مربی کے آثار کو اپنی ذات میں اپنے وجود میں جاری کرنا ہوگا اور اس مربی سے خود زندگی کے گر پانے ہوں گے اور زندہ کرنے کے گر سیکھنے ہوں گے۔اس لئے اپنی اولا د اور اپنی بیویوں کی تربیت میں ہرگز نہ عجلت سے کام لیں نہ سہل انگاری سے کام لیں، دونوں چیزیں مہلک ہیں۔نہ اُن کی بیماریوں سے غافل ہوں نہ اُن کی