خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 516 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 516

خطبات طاہر جلدے 516 خطبہ جمعہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء یا د رکھیں یہ کام سختی سے نہیں ہو گا۔دعا کے بعد آپ کے دل میں ایک قسم کی نرمی پیدا ہو جائے گی ، دعا کے بعد آپ کے دل میں ایک قسم کا بجز پیدا ہو جائے گا اور دعا کے نتیجہ میں آپ کی اولاد کے دل بھی نرم ہوں گے پھر آپ ان کو پیار اور محبت سے سمجھائیں اور ضروری نہیں کے پہلے دن ہی آپ کی اولا د پانچ وقت کی نمازی بن جائے۔ضروری نہیں کہ آپ کی اولا د جب پانچ وقت کی نمازی بن جائے تو وضو میں بھی ویسے ہی اہتمام کرتی ہو اور دیگر لوازمات میں بھی ویسا ہی اہتمام کرتی ہو۔ایسی خواتین بھی ملیں گی آپ کو ایسی بچیاں بھی ملیں گی جو اپنے سنگھار کو بچانے کی خاطر تیم کر لیں گی۔اس وقت ان کو تحقیر کی نظر سے نہ دیکھیں اس وقت ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنا ئیں ورنہ آپ کی نصیحت سارا اثر کھو دے گی ، آپ ان کے قریب آنے کی بجائے ان سے دور ہٹ جائیں گے اور دور کی آواز وہ اثر نہیں کرتی جو قریب کی آواز کیا کرتی ہے۔ایک محبت کرنے والا جو اپنے محبوب کے کان میں سر گوشی کرتا ہے دنیا کا بلند ترین آواز رکھنے والا انسان بھی وہ اثر اپنی آواز میں نہیں دیتا جو دور کی آواز ہوا کرتی ہے۔اس لئے آپ قریب رہیں۔یاد رکھیں یہ راز سمجھ لیں اور کبھی نہ بھولیں کہ اگر کامیاب نصیحت کرنی ہے تو آپ کو ہمیشہ اپنی بیوی، اپنے بچوں کے قریب رہنا ہوگا، روحانی طور پر اپنے دلی تعلقات کے لحاظ سے اپنے جذبات کے لحاظ سے کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے آپ اور اُن کے درمیان کوئی خلیج حائل ہو جائے۔حوصلہ کریں وسعت قلبی کا ثبوت دیں ان کی کمزوریوں کو دیکھیں تو اپنی کمزوریاں بھی تو یاد کیا کریں آپ بھی کب پہلے دن ہمیشہ کے برابر نمازی بن گئے تھے۔کئی مراحل میں سے آپ گزرے ہیں، کئی اور کمزوریاں ہیں جو آپ کی ذات میں موجود ہیں جن کے ساتھ آپ زندہ رہ رہے ہیں ، جن کے ساتھ آپ نے ایک قسم کی صلح کر رکھی ہے۔آخر وہ بھی تو انسان ہیں،ان کے اندر بھی کمزوریاں ہیں، ان کے اندر بھی ایسے جذبات ہیں جو بچپن کی عمر میں بعض دفعہ غیر اللہ کی طرف زیادہ مائل ہو جایا کرتے ہیں اور ان کی تادیب کی ضرورت ہے ان کو رفتہ رفتہ تربیت دے کر ایک خاص نہج پر چلانے کی ضرورت ہے اس لئے یہ شوخیاں اور تیزیاں اور تحقیر کی باتیں کام نہیں دیں گی۔حوصلہ کرنا ہوگا مگر حوصلے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی آنکھیں بند کر دیں۔میں نے دو طرح کے لوگ دیکھے ہیں بعض اپنی اولاد سے اس قسم کے حوصلے کا سلوک کرتے ہیں کہ وہ جو مرضی کرتی رہے ان کو پر واہ کوئی نہیں۔یہ حوصلہ نہیں ہے یہ تو بے حسی ہے، یہ تو موت ہے۔حوصلہ یہ ہے کہ دکھ محسوس کریں اور دکھ دکھ