خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 515 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 515

خطبات طاہر جلدے 515 خطبہ جمعہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء بات کا عرفان حاصل کر لیں گے کہ آپ کو ہمیشہ اپنی نمازوں کی حالت کو پہلے سے بہتر بنانا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کو اپنے پیچھے چلنے کے ارشارے کرنے ہوں گے ۔ اپنے پیچھے چلے آنے کی تلقین کرنی ہوگی اور نمازوں کے جو پھل آپ حاصل کریں گے ان پھلوں میں اپنی اولاد کو شریک کرنا ہو گا اس طرح ان کو یہ معلوم ہوگا کہ یہ کوئی محض دکھاوے کا بوٹا نہیں یہ وہ پھل دار درخت ہے جس سے واقعہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں اور اُس کے قرب اور اس کے پیار کے پھل لگتے ہیں۔ پھر یہ نمازیں ثمر دار ہو جائیں گی ، پھر یہ نمازیں ہمیشہ نشو و نما پاتی رہیں گی۔ پس نماز کی حقیقت کی طرف نظر کریں، گہرائی سے اپنی اولاد کا جائزہ لیں اور پھر اپنا جائزہ لیں اور پھر دونوں مل کر دعائیں کرتے ہوئے اس سفر کو آگے بڑھاتے چلے جائیں۔ اس راہ میں بہت ہی محنت درکار ہے بہت سے مراحل آتے ہیں جب انسان تھک جاتا ہے، ہمت ہار دیتا ہے، سمجھتا ہے کہ کب تک میں یہ کام کرتا رہوں گا ۔ بسا اوقات اپنی اولاد کو نصیحت کرتا ہے، مہینوں سالوں اور اولاد ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتی ۔ بعض دفعہ دل میں سخت درد پیدا ہوتا ہے کہ میں کیا کروں کس زبان سے ان کو سمجھاؤں کہ عبادت میں تمہاری زندگی ہے مگر بندہ عاجز ہے بے بس ہے کوئی پیش اس کی نہیں جاتی لیکن یاد رکھیں ایسے موقعوں پر ہرگز مایوس نہیں ہونا اس وقت پھر یاد کریں کہ در حقیقت آپ کا تمام تر انحصار عاجزانہ دعاؤں پر ہے، ایسی صورت میں جب آپ اپنی نصیحت کی ناکامی سے دل میں دکھ محسوس کریں وہ وقت خصوصیت کے ساتھ دعا کا وقت ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بہتوں نے یہ تجربہ کیا ہوگا لیکن کئی ایسے بھی ہیں جن کو شاید ذاتی طور پر اس بات کا تجربہ نہ ہوا ہو اس لئے ان کو بتانے کی خاطر میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں نے بارہا اپنی زندگی میں یہ محسوس کیا ہے کہ مایوسی کے وقت مایوسی میں سے زندگی کا پانی نکلتا ہے کہ اگر آپ دعا کی طرف متوجہ ہو جائیں ۔ جب آپ کی کوششیں بے کار جارہی ہوں، جب کوئی نتیجہ نہ نکل رہا ہو اس وقت اگر آپ خدا کو الحاء کے ساتھ پکاریں ، عاجزی اور خشوع کے ساتھ پکاریں تو انہی ناکامیوں میں سے مراد کا ایک ایسا چشمہ پھوٹتا ہے جو سلسبیل بن جاتا ہے، جو ہمیشہ کے لئے آپ کو زندگی بخشتا ہے۔ پس اس روح کے ساتھ اپنی اولاد کو نمازوں پر قائم کریں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آپ کو آغاز بہر حال پہلے سبق سے کرنا ہوگا ۔ پہلے اُن کو روزمرہ کی نمازوں کی عادت ڈالنی ہو گی لیکن