خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 514
خطبات طاہر جلدے 514 خطبہ جمعہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء کر دیں اور غور سے مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت سے نماز کے ایسے آداب ہیں جن سے وہ عاری ہیں بہت سے نماز کے ایسے فوائد ہیں جو ان کو ملنے چاہئیں اور نہیں مل رہے۔نماز ان کی توجہ دنیا سے ہٹا کر دین کی طرف نہیں کرتی۔ان کا دل اسی طرح دنیا میں اٹکا ہوا ہے جس طرح نماز پڑھنے سے پہلے اٹکا ہوا تھا۔پس جب ان باتوں کو آپ غور کی نظر سے دیکھیں گے تو پھر ان کی نمازوں کی حالت کو بہتر اور بہتر بنانے کی کوشش کرتے چلے جائیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے بعض پچھلے خطبات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے اقتباسات پڑھ کے سنائے اور بڑی تفصیل سے مضمون کی گہرائی میں جا کر آپ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ نماز کا آغاز محض وہ مقصد نہیں ہے جس سے ہم ہمیشہ کی زندگی پاسکتے ہیں۔نماز کے آغاز کے بعد پھر آگے لامتناہی مراحل ہیں جو مسلسل جاری رہیں گے اور اس کے سوا کوئی اور صورت ممکن نہیں ہے۔کوئی دنیا کا عبادت کرنے والا عبادت میں اپنے آخری مقام کو نہیں پاسکتا جب تک وہ اس مضمون کو نہ سمجھے کہ جس کی عبادت کی جاتی ہے اس کا کوئی آخری مقام نہیں ہے اور جب اس مضمون کو وہ سمجھ جاتا ہے تو پھر اس آخری منزل جس کی کوئی منزل نہیں یعنی خدا تعالیٰ۔اس کی طرف مسلسل اور پیہم حرکت کا نام ہی نمازوں کی تکمیل یا نماز کے مقاصد کا حصول بن جاتا ہے۔اس سے یہ راز ہمیں سمجھ آگیا کہ کوئی نماز جو ایک حالت پر ٹھہر جاتی ہے وہ زندہ نماز نہیں رہتی۔کوئی نماز کی حالت جو آگے بڑھنے سے رُک جاتی ہے وہ یقینا زندگی کے پانی سے محروم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔عبادت ایک ایسا مضمون ہے جس میں کوئی ٹھہراؤ نہیں ہے۔چنانچہ جب اس پہلو کوخوب سمجھنے کے بعد آپ اپنی اولاد کی طرف متوجہ ہوں گے تو آپ اپنے نفس کی طرف بھی متوجہ ہوں گے پھر آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس شعر کا مضمون سمجھ آئے گا کہ ہم ہوئے خیر امم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے ( در تمین صفحه : ۱۷) پھر آپ کو قدم آگے بڑھانے پڑیں گے تا کہ آپ کی اولاد آپ کے پیچھے پیچھے اپنے قدم آگے بڑھائے۔پھر یہ مضمون یک طرفہ نصیحت کا مضمون نہیں رہے گا۔آپ خوب سمجھ لیں گے اور اس