خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 513
خطبات طاہر جلدے 513 خطبہ جمعہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء نصیحت کرتا ہے اس کی نصیحت میں جان نہیں ہوتی ، اس کی نصیحت میں روح نہیں ہوتی۔اس کی نصیحت بعض دفعہ خوبیاں پیدا کرنے کی بجائے طرح طرح کی خرابیاں پیدا کر دیتی ہے۔ایسا شخص جو دعا کا عادی نہیں اور ہر لمحہ اس کی اپنے خدا پر نظر نہیں اس کی نصیحت بعض دفعہ خود اس کے لئے بھی ہلاکت کا موجب بن جاتی ہے کیونکہ اس کی نصیحت کی خشکی اس کی روح کے پانی کو چوس جاتی ہے اور رفتہ رفتہ وہ خود ایک مشین بن جاتا ہے۔بسا اوقات خشک نصیحت کرنے والا متکبر ہو جاتا ہے بسا اوقات ایک خشک نصیحت کرنے والا متکبر بن کر نہ صرف خود خدا کی راہوں سے دور چلا جاتا ہے بلکہ جن کو نصیحت کرتا ہے ان کو نیکی کی طرف بلانے کی بجائے بدیوں کی طرف دھکیلتا ہے اور ایسی نصیحتیں نہ اس کے کام آتی ہیں نہ اُن کے کام آتی ہیں جن کو نصیحت کی جاتی ہے۔کئی ملک ہیں جو مثال کے طور پر آپ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور خدا کے نام پر بھی تحریکات کروائی جارہی ہیں لیکن کوئی بھی اثر نہیں رکھتیں کیونکہ وہ نصیحتیں تقویٰ سے عاری ہیں اور وہ صیحتیں دعا سے عاری ہیں۔جماعت احمدیہ کو ایسا نہیں بننا جماعت احمدیہ تمام دنیا کے لئے آج وہ آخری نمونہ ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نمونے کا احیاء ہے۔اگر یہ نمونہ جماعت احمدیہ میں زندہ نہ ہوا تو ساری دنیا ہمیشہ کے لئے مرجائے گی اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں میں آپ سے کہتا تم خدا کی وہ آخری جماعت ہو جس پر کائنات کے خدا کی نظر ہے جس سے ساری دنیا کی زندگی وابستہ ہو چکی ہے اور یہ عظیم الشان کام دعا کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہ عظیم الشان کام ممکن نہیں ہے جب تک آپ خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والی نسلیں اپنے پیچھے چھوڑ کر نہ جائیں۔جب تک ایسا نہ ہو کہ مرنے سے پہلے آپ کی نظریں اپنی اولاد کے چہروں پر اس طرح پڑ رہی ہوں کہ آپ کے دل سکینت اور اطمینان سے بھر جائیں کہ ہاں ہم نے خدا کی راہ میں عبادت کرنے والی اولا د پیچھے چھوڑی ہے۔جب تک ان کا تقویٰ نہ آپ دیکھیں اس وقت تک آپ کی زندگی بھی بے کار ہے اور آپ کی موت بھی بے کار ہے۔اس لئے اس امر کی طرف بہت زیادہ گہری توجہ دیں ہر وقت بے قراری محسوس کریں۔کیوں آپ چین سے بیٹھتے ہیں جب اپنے گھر میں آپ اپنی اولا د کو بے نماز دیکھتے ہیں پھر جب آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آغاز سفر کوئی انجام سفرتو نہیں۔یہ سفر تو ایسا ہے جس میں لامتناہی مراحل آتے ہیں آپ بظاہر اپنی اولاد کو اگر دعاؤں کی مدد سے نماز پر قائم بھی