خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 498
خطبات طاہر جلدے 498 خطبہ جمعہ ۵ار جولائی ۱۹۸۸ء ہے۔یہ بات اچھی طرح یاد رکھیں کہ جس طرح عام زمیندارے میں تجارب ہیں ویسے ہی تجارب روحانی امور میں بھی حاصل ہوتے ہیں۔جب ارد گرد علاقہ خشک ہو جائے تو ایک کھیت کا پانی زیادہ دیر اس میں قائم نہیں رہا کرتا بڑی تیزی سے وہ سوکھتا ہے اور اگر اردگر دنمی ہو تو کھیت کا پانی بعض دفعہ دسیوں گنا زیادہ دیر تک وہاں قائم رہتا ہے اور ضائع نہیں ہوتا اس لئے ذکر الہی نمازوں کی حفاظت کے لئے بہت ضروری ہے۔اپنے ماحول کو نمازوں کے ماحول کو ، اس کے گرد و پیش کو ذکر الہی سے آپ تر رکھیں گے تو نمازیں بھی ذکر الہی سے تر رہیں گی ، اگر اردگر دخشکی ہوگی تو بیرونی خشکی نمازوں میں سرایت کرنی شروع کر دے گی۔جگہ جگہ سے اندر سڑکیں بنائے گی اور آہستہ آہستہ ایک آدھ جزیرہ شاید رہ جائے ذکر الہی کا باقی سب ذکر کے اوپر آپ کی روز مرہ کی زندگی کی خشکی غالب آجائے گی۔اس لئے اس خطرے کو یا درکھیں اور رخصوصیت سے اجتماعات کے وقت ذکر الہی پر بہت زور دینا چاہئے۔جلسہ کے تین دنوں کے لئے مہمانوں کے لئے مسجد فضل سے اسلام آباد کے لئے بغیر کسی خرچ کے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا گیا ہے، سواری کا انتظام کیا گیا ہے۔صبح مہمانوں کولندن سے اسلام آباد لے جانے اور شام کو واپس لانے کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ہمارے یہاں کے ہنسلو کے پریذیڈنٹ عبد اللطیف خان صاحب بڑے دیر سے ماشاء اللہ یہ انتظامات سنبھالے ہوئے ہیں اور نہایت ہی عمدگی سے سرانجام دے رہے ہیں، یہ اور ان کی ٹیم اللہ تعالیٰ ان کو بہترین جزا دے۔آپ اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں وہ یہاں صبح صبح پہنچ جایا کریں گے یہاں سے اکٹھے چلے جایا کریں گے اور پھر وہاں سے رات کو جلسے کے بعد ا کٹھے کھانا کھا کے فارغ ہو کے یہاں آجایا کریں گے۔کارکنوں کیلئے بھی میری نصیحت یہی ہے کہ بعض دفعہ مہمان ان سے بدخلقی سے پیش آتے ہیں یا ان کو پتا نہیں لگ رہا ہوتا یا غلطی کر رہے ہوتے ہیں اور جائز طور پر مہمان کو غصہ آجاتا ہے۔وہ اپنے جذبات پر پوری طرح نظم و ضبط کی زنجیروں پہنائے رکھیں ، ان کو بے لگام نہ چھوڑ دیں اور ان کی طرف سے کوئی ایسی شکایت نہیں ہونی چاہئے خواہ کوئی ان سے کتنی ہی بدخلقی سے پیش آئے۔شعبہ تربیت کو بہت زیادہ مستعد ہونے کی ضرورت ہے۔گزشتہ سال جس طرح کہ ہمارے مرکز میں ہمیشہ سے شعبہ قائم ہے یہاں بھی تربیت کا شعبہ قائم کیا گیا تھا اور ان کو میں نے تاکید کی تھی خود سمجھایا تھا کہ ان ان چیزوں میں کمی دکھائی دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میر ا عمومی جائزہ یہی