خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 495
خطبات طاہر جلدے 495 خطبہ جمعہ ۵ ار جولائی ۱۹۸۸ء اختیار کر و اونٹ کا گھٹا باندھو اور پھر تو کل کرو کہ اگر کوئی شریر آکر اس کو کھولنا چاہے تو اللہ تمہیں اس سے بچائے اور تمہارا مال ضائع نہ ہو۔( ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ حدیث نمبر: ۲۴۴۱) تو خود حفاظتی کے لئے بھی یہی مضمون ہے۔دعا کریں مگرا کیلی دعا پر تو کل نہیں بلکہ دعا اور تدبیر دونوں کو ملا کر توکل کا مضمون مکمل ہوگا۔پھر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے جو بھی اس کی رضا ہو اس پر ہم راضی ہیں۔احمد یہ نظام حفاظت میں محض وہ لوگ کام نہیں کرتے جن کو اس مقصد کے لئے مقرر کر کے کہیں کہیں کھڑا کیا جاتا ہے یا بعض ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔احمد یہ نظام حفاظت ہر دوسرے نظام سے ایک الگ نظام ہے۔اس میں ہر فرد بشر ہر احمدی نظام حفاظت کا ایک جزو بن جاتا ہے وہ آنکھیں کھول کر رکھتا ہے، گردو پیش پر نظر ڈالتا ہے۔دعائیں بھی کر رہا ہوتا ہے اور بڑی فراست کے ساتھ جائزہ لیتا ہے کہ کہیں کوئی ایسی بات تو نہیں ہوئی جوان ہونی سی ہے جو غیر معمولی سی ہے اور فوراً اس کو نظر میں لاکر پھر خود براہ راست قدم نہیں اٹھاتا بلکہ متعلقہ نظام کی طرف رجوع کرتا ہے۔براہ راست قدم کے متعلق یاد رکھیں کہ براہ راست قدم محض اس وقت ضروری ہے جبکہ مثلاً آگ لگ رہی ہے۔اس وقت آپ یہ کہیں کہ جی ہم آگ بجھانے والا جو نظام ہے پہلے اس کی طرف جائیں گے پھر کوئی کارروائی کریں گے، یہ ایک بے وقوفوں والی بات ہوگی۔بچہ گر رہا ہے حادثے کا شکار ہونے والا ہے، آپ دیکھ رہے ہیں مگر کہتے ہیں کہ نہیں میں پہلے اس کو بتاؤں گا جس کا کام بچوں کی حفاظت کرنا ہے۔یہ تو جہالت ہے لیکن جہاں جہاں بھی آپ کو وقت اجازت دیتا ہے وہاں ضروری ہے کہ خود دخل دینے کی بجائے متعلقہ نظام سے بات کریں گے اور خود کم سے کم اتنا دخل دیں جس کے بغیر چارہ نہیں ہے جو وقت کا فوری تقاضا ہے۔تو اس پہلو سے سیکیورٹی کا خیال رکھیں لیکن یہ بات پیش نظر رہے کہ جماعت احمدیہ کے جلسوں میں غیر از جماعت دوست بھی بہت آتے ہیں اور اس سال خصوصیت سے اطلاعیں مل رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلے سالوں کی نسبت بہت زیادہ توجہ ہے جماعت کی طرف اور مولویوں کا جھوٹ جوں جوں کھلتا جا رہا ہے کئی ایسے لوگ جو بدظن تھے قریب بھی نہیں آنا چاہتے تھے اب توجہ کر رہے ہیں ، رابطے بڑھا رہے ہیں۔تو یہ نہ ہو کہ ہر اجنبی کو آپ دشمن سمجھ لیں اور ہر دشمن سے بدسلوکی شروع کر دیں۔آپ کا کوئی دشمن نہیں ہے جب تک پہلے ثابت نہ ہو جائے کہ کوئی دشمن ہے۔اس لئے احتیاط کے تقاضے اور ہیں اور اخلاق کے تقاضے اور ہیں لیکن یہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔اخلاق کا