خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 494
خطبات طاہر جلدے 494 خطبہ جمعہ ۵ار جولائی ۱۹۸۸ء تجارتی کاروبار میں آپ کو غیر معمولی کشش نظر آئے وہیں آپ سمجھیں کہ خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔کوئی بات ضرور ہے جہاں محنت کرنی پڑتی ہے، جہاں عام دستور کے مطابق ہر قسم کے خطرات مول لینے پڑتے ہیں وہاں آپ خود ہی رک جائیں گے، وہاں آپ کی طبیعت آپ کے لئے گھنٹی بجائے گی کہ یہ بڑا مشکل کام ہے، کیوں پھنستے ہو خواہ مخواہ۔اس لئے جہاں آپ کا دل بے اختیار آپ کو کہے گا کہ چھوڑ ومشوروں کو فوراً لے لو اس وقت موقع ہے، ہاتھ سے نہ نکل جائے ، کل کو میں یہ نہ کہوں کہ اوہو اتنا اچھا موقع تھا ہاتھ سے ضائع گیا وہاں آپ سمجھیں کہ آپ ضرور کہیں ٹھوکر کھانے والے ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ فضل کرے جماعت کو عقل دے۔مالی لین دین میں ابھی ہمیں بہتر نمونے دکھانے کی ضرورت ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ کوئی آنے والا اس لحاظ سے پاکستان کی جماعتوں کو داغدار نہیں کرے گا۔جہاں تک اجتماعی ذمہ داریوں کا تعلق ہے اس میں ایک سیکیورٹی ہے یعنی حفاظت کا انتظام اس میں صرف خلافت کی سیکیورٹی کا سوال نہیں بلکہ سارے نظام کی سیکیورٹی، ہر آنے والے کی سیکیورٹی، ہر میزبان کی سیکیورٹی اور چونکہ جماعت احمدیہ کے دشمن ہر طرف سے بڑی ظالمانہ نظروں سے جماعت کو دیکھ رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کے بڑھتے ہوئے فضلوں کے نتیجے میں ان کے حسد کا بڑھنا ایک طبعی امر ہے۔اس لئے جوں جوں خدا فضل زیادہ فرماتا ہے ہمیں اپنی خود حفاظتی کے بہتر اقدامات کرتے رہنا چاہئے۔اصل حفاظت تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اس لئے سب سے پہلے سیکیورٹی میں دعا کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔جس طرح سواری کے وقت آپ دعا کرتے ہیں تو اس کے فائدے دیکھتے ہیں اس لئے اسی طرح سیکیورٹی میں بھی سب سے اچھا جو نظام ہے خود حفاظتی کا وہ دعا کا نظام ہے۔دعائیں خصوصیت سے کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے اس جلسہ کو پرامن بنائے ، ہر شرارت کرنے والے دشمن کی شرارت سے جماعت کو بچائے ، اسے نامرادر کھے اور جہاں ہم سوئے ہوئے ہوں وہاں خدا کے حفاظت کرنے والے فرشتے ہماری حفاظت کر رہے ہوں لیکن کوشش یہ کریں کہ آپ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور توکل کے وہ معنی اختیار کریں جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہمیں سکھائے ہیں۔آپ نے فرمایا تو کل یہ نہیں ہے کہ اونٹ کو کھلا چھوڑ دو اور پھر تو کل رکھو دعا کرو کہ ٹھیک ہے اونٹ ضائع نہ ہو اور بھاگے نہیں یہ کوئی تو کل نہیں، تو کل یہ ہے کہ خود حفاظتی کی کوئی تدابیر