خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 490
خطبات طاہر جلدے 490 خطبہ جمعہ ۱۵ار جولائی ۱۹۸۸ء شامل ہوتے رہتے ہیں کہ اجتماعی انتظامات میں کوتاہیاں بھی ہو جاتی ہیں اس لئے صرف شکایت پر ہی نظر نہ رہے صرف نظر کا بھی خیال رکھیں اور عفو و مغفرت سے کام لیا کریں۔سوائے ایسی بات کے کہ جس سے آپ کو خطرہ ہو کہ دوسروں کو شکایت پہنچتی رہے گی اس وقت آپ صرف اپنے ذاتی جذبہ انتقام کے نتیجے میں شکایت نہیں کر رہے ہوں گے بلکہ دوسرے بھائیوں کی سہولت کی خاطر کر رہے ہوں گے اور شکایت کی خاطر نہیں بلکہ ایک تکلیف کے ازالے کیلئے کر رہے ہونگے ۔ اس لئے اس فرق کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں۔ جہاں تک ذاتی تکلیف کا تعلق ہے آپ کو مغفرت کی عادت ڈالنی چاہئے بھنو کی عادت ڈالنی چاہئے اور جہاں تک نظام جماعت کو بہتر بنانے کا تعلق ہے اس ضمن میں ہر وہ ضروری اقدام کرنا چاہئے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دن بدن نظام جماعت زیادہ بہتر زیادہ حسین ہوتا چلا جائے ۔ وہاں صفائی کے متعلق خصوصیت کے ساتھ میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کیونکہ وہاں بھی علاقہ ہم پر نظر ڈالے ہوئے ہے اور نظر رکھتا ہے ہمیشہ اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں وہاں شروع میں زیادہ تھے اب رفتہ رفتہ بہت کم رہ گئے ہیں جن کو ہم پر کئی قسم کی بدظنیاں ہیں، ہمیں جانتے نہیں اس لئے ہزار بد گمانی ہے ان کو اور خصوصیت سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ ایشیائی کلچر لیکر آتے ہیں جو گندی ہے اور جگہ جگہ چیزیں پھینکتے ، ہڈیاں اچھالتے اور جو چیز ایک دفعہ پھینک دی پھر اس پر نظر دوبارہ نہیں کرتے کہ ہم اس کو اٹھائیں اور کسی جگہ سلیقے سے سمیٹ کر رکھیں۔ تو اس پہلو سے انتظامیہ کو وہاں میں نے تاکید تو بہت کی ہے، انشاء اللہ تعالیٰ مختلف جگہوں پر ایسے برتن لگادے گی یا ایسے بڑے بڑے کنستر وغیرہ رکھ دے گی جن میں اپنی گندی چیزیں پھینک سکتے ہیں لیکن اپنا سامان ضائع شدہ چیزیں یا استعمال شدہ برتن وغیرہ صرف وہ ہی نہ پھینکیں بلکہ دوسروں کے بھی پھینکیں یہ عادت ڈالیں کیونکہ یہ اس لئے ضروری ہے کہ جیسا کہ میں نے مسلسل اپنے جلسے کی تقاریر میں بیان کیا ہے کہ عدل اور احسان ایتاء ذی القربیٰ کے مضمون میں اسلام صرف عدل کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ احسان کی تعلیم دیتا ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اماطة الأذى عن الطريق ( ترندى کتاب الایمان حدیث نمبر : ۲۵۳۹) یہ تکلیف دہ چیزوں کا رستوں سے اٹھانا اور دور کرنا یہ بھی ایمان کا حصہ ہے۔ تو یہ عدل کی نہیں بلکہ احسان کی تعلیم ہے۔ اس لئے اگر آپ اپنے استعمال شدہ برتن وغیرہ ڈبوں میں پھینکیں تو آپ عدل کر رہے ہوں گے سوسائٹی سے اگر آبا