خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 485 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 485

خطبات طاہر جلدے 485 خطبہ جمعہ ۱۵ار جولائی ۱۹۸۸ء روزمرہ کے امن کی حفاظت کی جائے اور ہمسائیگی کے یہ حقوق حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سمجھائے ہیں ان کی رو سے قطع نظر اس کے کہ کوئی اپنا حق منواتا ہے یا نہیں ہم نے اپنا فرض بہر حال ادا کرنا ہے اس لئے اچھے مہمان محض مقامی میز بانوں ہی کے لئے نہ بنیں بلکہ میز بانوں کے ہمسائیوں کے لئے بھی اچھے میزبان بنیں اور اس پہلو سے مسجد میں آنے والوں پر بھی ایک خاص ذمہ داری ہے۔ ہمارے اردگرد ماحول میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھے تعلقات ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن سے ہر قسم کا حسن سلوک کر دیکھا لیکن ان کی بد خلقی نہ گئی اور وہ بہانے ڈھونڈتے ہیں اعتراض کے اور چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی خصوصاً عبادت کی وجہ سے لوگ اکٹھے ہوئے ہوں تو ان کو بہت تکلیف پہنچتی ہے۔ ایک آدھ ایسے دوست ہیں لیکن ہیں ضرور ۔ اگر بے احتیاطی سے نمازوں کے بعد باہر مجالس لگائی جائیں اور اونچی آواز میں باتیں کی جائیں تو یہاں چونکہ مغرب اور عشاء کی نماز کے اوقات ایسے وقت میں ہوتے ہیں کہ جوان لوگوں کے سونے کا اور آرام کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ اس لئے ان کیلئے ایک جائز بہانہ ضرور ہے کہ اس پر وہ شور ڈالیں اور شکایت کریں ۔ تو احباب جماعت جلسے سے پہلے بھی اور جلسے کے بعد بھی یہاں کثرت سے تشریف لائیں گے اور عموماً دلچسپیوں کا محور یہی مسجد فضل بنتی ہے اس لئے اس بات کا خیال رکھیں کہ جب منتشر ہوا کریں نماز کے بعد تو باہر کھڑے ہو کر مجالس نہ لگایا کریں۔ اگر ملنا ہے تو یہ بھی ایک اسلامی معاشرے کا حصہ ہے کہ اچھی دینی تقریبات کے بعد دوست محبتیں بڑھاتے ہیں، ایک دوسرے سے تعلقات باندھتے ، پیار کی باتیں کرتے اور مومنانہ اخوت کو تقویت دیتے ہیں ۔ ایسی صورت تو بالکل مذہب کی منشاء کے مطابق ہے لیکن اس رنگ میں یہ نہیں کرنا چاہئے کہ اس کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف پہنچے اور اذیت کا موجب بنے چنانچہ امید ہے اس لحاظ سے بھی شائستگی اور سلیقے کو اختیار کریں گے اور مسجد فضل کے ماحول میں کوئی ایسا رویہ اختیار نہیں کریں گے جو جائز شکایت کا موجب بنے ۔ شور کے علاوہ بھی بعض خاموش ایسے بہانے بن جاتے ہیں ان لوگوں کیلئے مثلاً کار کا غلط جگہ پارک کرنا یا سڑکوں پر ایسی جگہ کھڑے ہو جانا جہاں سے کاروں کے لئے گزرنے میں دقت پیدا ہوتی ہو اس کے متعلق بھی دراصل تو میں جیسا کہ بیان کیا یاددہانیاں ہیں کوئی نئی باتیں نہیں۔ یہ تمام