خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 471 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 471

خطبات طاہر جلدے 471 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء ایک تو بہ بھی ان کی ساری زندگی کے گناہوں کو مٹادیتی ہے اگر وہ مقبول ہو جائے لیکن تو بہ کا سچائی سے تعلق ہے۔باتوں کی توبہ قبول نہیں ہوا کرتی دل کی نیکی کی توبہ قبول ہوا کرتی ہے اور اس نیکی کے نتیجے میں اعمال میں جو تبدیلی پیدا ہوتی ہے وہ تو بہ کی قبولیت کی ضمانت دیتے ہیں۔اس لئے میں آخر میں یہی نصیحت ان کو کرتا ہوں کہ ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ وہ کر کیا رہے ہیں تماشا ؟ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ یہ جتنی مصیبتیں پڑی ہیں قوم پر یہ آپ کے مظالم کے نتیجے میں پڑی ہیں۔پاکستانی قوم کا یہ حق ہے کہ احمدیت ان کی خدمت کرے اور امر واقعہ یہ ہے کہ جب تک آپ یا کوئی اور پاکستان کو احمدیت سے دور رکھتا ہے پاکستان کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔آج احمدیت کے اور پاکستانیوں کے درمیان کے پردے ہٹا دیئے جائیں اور آج یہ جو مصنوعی دیواریں کھڑی کی گئی ہیں دوسرے پاکستانی احمد یوں اور غیر احمدی پاکستانیوں کے درمیان آج ان دیواروں کو منہدم کر دیا جائے آپ دیکھیں یہ قوم کنی جلد جلد ترقی کرتی ہے۔احمدیت اس قوم کی نجات ہے، احمدیت اس قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، احمدیت اس بات کی ضمانت ہے کہ احمدیت کے طفیل اور احمدیت کی کوششوں کے ذریعے وہ لوگ جو اسلام سے دور جارہے ہیں جوق در جوق جوش و خروش کے ساتھ دوبارہ اسلام کی طرف لوٹیں گے اور وہ جو ڈنڈے اور تلواروں کے خوف سے بھی نمازیں ادا نہیں کرتے وہ احمدیت کی برکت سے خشوع وخضوع کے ساتھ خدا کے حضور روتے اور گڑ گڑاتے ہوئے رکوع اور سجدوں میں گریں گے اور مساجد کو آباد کریں گے خدا تعالیٰ کی محبت کی خاطر۔یہ توفیق احمدیت کو صرف ملنی ہے احمدیت سے یہ توفیق چھینے کی کوشش کریں اور ان کے سپرد کرنے کی کوشش کریں جن کو خدا نے ان نیکیوں کا امین نہیں بنایا تو آٹھ سال مارشل لاء کے کیا یا گیارہ سال آپ کی حکومت کے کیا، گیارہ لاکھ سال بھی آپ مسلط رہیں اس قوم پر آپ کبھی اس کو مسلمان نہیں بناسکیں گے۔اسلام کے قیام کی ذمہ داری خدا نے جماعت احمدیہ کو سونپ دی ہے۔احمد یوں نے اپنے اعمال سے ثابت کر دیا ہے کہ اسلام کے نفاذ کیلئے وہ ہر قربانی کیلئے تیار ہیں۔اس لئے وہ قوم جس کو خدا نے خدمت دین کیلئے کھڑا کیا ہے اس کے سپر د خدمت دین کریں اور آپ ایک طرف ہٹ جائیں۔پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کس طرح جلد جلد اسلام حقیقی طور پر لوگوں کے دلوں میں نافذ ہوتا ہے، ان کے اعمال میں نافذ ہوتا ہے، ان کے گھروں میں نافذ ہوتا ہے، ان کی گلیوں اور بازاروں میں نافذ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو عقل اور تقویٰ کی توفق عطا فرمائے۔آمین۔