خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 470
خطبات طاہر جلدے 470 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء نیت دل میں کیا ہے۔کوئی انسان نہیں جانتا ہے اس لئے مجھ پر بدظنیاں نہ کرو۔بدظنی کی بظاہر تو وجو ہات تھیں لوگوں نے یہ باتیں شروع کر دیں کہ اسلام صرف اس لئے لا رہے ہیں کہ یہ فیصلہ کرائیں کہ اسلامی شریعت کی رو سے عورت سربراہ نہیں ہو سکتی۔لوگوں نے کہا کہ اسلام کا اس وقت فوراً خیال اس لئے آگیا ہے کہ یہ فیصلہ کرائیں کہ اسلام میں دو پارٹیاں نہیں ہوں گی اور پارٹی سسٹم ہی نہیں ہوگا اور پھر جس کو ہم ٹکٹ دے دیں گے وہی آجائے گا، جس طرح بھی چاہیں آجائے گا۔کئی قسم کی چہ میگوئیاں شروع ہوگئی تھیں وہ چہ میگوئیاں ان تک پہنچتی ہوں گی اور غالباً انہیں ملحوظ رکھتے ہوئے انہوں نے یہ اعلان کیا کہ میری نیت پر حملے نہ کرو، نامناسب بات ہے، میں تمہارا سر براہ ہوں خدا کا خوف کر وہ تمہیں کیا پتا میرے دل میں کیا ہے؟ اس لئے میں جو اپنے دل کی باتیں بیان کرتا ہوں تمہیں ان کو چیلنج کرنے کا کوئی حق نہیں ہاں خدا بہتر جانتا ہے۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ میں سچ کہہ رہا ہوں یا جھوٹ کہہ رہا ہوں۔اپنے لئے تو آپ یہ حق لے رہے ہیں لیکن ایک احمدی جب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتا ہے تو آپ کا قانون اور آپ کی ہدایات اور آپ کے کارندے اکٹھے ہوکر اس کو ذلیل ورسوا کرتے ہوئے عدالتوں میں گھسیٹتے ہیں اور پھر جیل خانوں میں ڈالتے ہیں اور طرح طرح کی زیادتیاں ان پر کرتے ہیں۔اس وقت یہ حق کہاں چلا جاتا ہے ایک احمدی کا کہ جو ہم دعویٰ کرتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہم اپنے دعوے میں بچے ہیں اور خدا جانتا ہے کہ ہم بچے ہیں کہ نہیں کسی انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کہے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو تو جس بنیادی حق سے، جس اسلامی حق سے آپ اپنے ملک میں بسنے والے باشندوں کو محروم کر رہے ہیں جن کے حقوق کی حفاظت ہر سر براہ مملکت کا فرض ہے اور اس بارے میں وہ پوچھا جائے گا وہ اپنے لئے وہ حق آپ کس طرح محفوظ کر سکتے ہیں۔اس لئے اس ظلم اور تعدی سے باز آئیں وہ اور تمام بنیادی انسانی حقوق جو اسلام احمدیوں کو دلاتا ہے اور اسلام بنیادی حقوق میں کوئی تفریق نہیں کرتا۔وہ احمدیوں کو دیں اور تقویٰ اختیار کریں اور ناحق ظلم اور تعدی سے باز آجائیں۔پھر آپ کو یہ حق ہے کہ کہیں کہ ہاں خدا مجھے جانتا ہے بلکہ خدا سے آپ توقع رکھیں کہ اللہ آپ پر فضل فرمائے۔ایک معقول بات ہوگی۔پھر بخشش کی توقع بھی رکھی جاسکتی ہے۔بڑے بڑے گناہ گار جو ساری زندگیاں ظلم اور تعدی میں صرف کر دیتے ہیں۔بعض دفعہ ان کے آخری دور کی آخری وقت کی