خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 457
خطبات طاہر جلدے 457 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۸ء ہیں وہ سارے چھٹ جائیں۔جس طرح سورج چڑھتا ہے تو رات کے لئے بھاگنے کے سوا مقدر کچھ نہیں رہتا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب میں جتنا ظلم پھیلایا جارہا ہے جتنی تاریکیاں پھیلائی جارہی ہیں خدا سے ایسا نشان مانگیں جو سورج کی طرح چڑھے اور ان تاریکیوں کا تار پود بکھیر کر رکھ دے۔وہ کیسے حاصل ہوگا الہاماً خدا تعالیٰ نے خود بیان فرما دیا ہے یہ وہ طریق ہے۔اٹھو نمازیں پڑھیں اور قیامت کا نمونہ دیکھیں۔“ پس میں امید رکھتا ہوں کہ ویسے بھی اس صدی کے اختتام پر سب سے زیادہ قابل توجہ امر نماز ہی تھی اور اسی کی طرف میں نے متوجہ کرنا تھا۔یہ عجیب خدا تعالیٰ کی طرف سے تصرف ہوا ہے کہ ساتھ ہی چونکہ مباہلہ کا چیلنج دے دیا گیا ہے اور ان دونوں کے تعلق کو خود خدا نے رویا کے ذریعے بھی مجھے سمجھا دیا کہ اگر مباہلہ کو عظیم الشان طریق پر کامیاب کرنا چاہتے ہو تو نمازوں کی طرف جماعت کو متوجہ کرو اور پھر اس الہام کی طرف بھی توجہ پھیر دی کہ اس کا بھی اسی سے تعلق ہے اس لئے میں خصوصیت کے ساتھ جماعت کو ایک دفعہ پھر تاکید کرتا ہوں کہ اس سال کو بشدت عبادت الہی کا سال بنا دیں جو ذکر الہی سے معمور ہو اور جس میں ہم خدا کی یاد کی لذتیں پائیں۔اللہ کرے کے ایسا ہی ہو۔آمین۔