خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 450 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 450

خطبات طاہر جلدے 450 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۸ء نماز سے گھر غارت ہوتا ہولیکن اس کو ان کو چوں کی خبر نہیں ہے۔وہ عرفان باللہ نہیں رکھتا اس لئے وہ ان بار یک اسرار سے واقف نہیں ہے۔ایک اور بھی بیماری ہے۔بعض لوگ نماز پڑھتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد ہی وہ سمجھتے ہیں کہ اس نماز کے نتیجے میں ہمیں کچھ ملنا چاہئے۔اگر وہ نہیں ملتا تو وہ نماز سے بددل ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور ایسے بھی لوگ ہیں جن کو نماز پڑھنے کے دوران، جب وہ نمازیں شروع کرتے ہیں مثلانئی نئی اگر کوئی ابتلا آجائے تو وہ سمجھتے ہیں یہ نماز کی نحوست ہے۔ان لوگوں کا بھی ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وہ کافر اور منافق ہیں جو کہ نماز کو منحوس کہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ نماز کے شروع کرنے سے ہمارا فلاں فلاں نقصان ہوا ہے۔نماز ہرگز خدا کے غضب کا ذریعہ نہیں جو اسے منحوس کہتے ہیں ان کے اندر خود زہر ہے۔جیسے بیمار کو شیرینی کڑوی لگتی ہے ویسے ہی ان کو نماز کا مزہ نہیں آتا۔یہ دین کو درست کرتی ہے، اخلاق کو درست کرتی ، دنیا کو درست کرتی ہے۔نماز کا مزہ دنیا کے ہر ایک مزے پر غالب ہے۔لذات جسمانی کے لئے ہزاروں خرچ ہوتے ہیں اور پھر ان کا نتیجہ بیماریاں ہوتی ہیں۔“ کیسا عظیم کلام ہے، کیسا عارفانہ کلام ہے۔دین پر بھی نظر ہے دنیا پر بھی نظر ہے اور ان دونوں کے رابطوں پر بھی گہری نظر ہے۔فرماتے ہیں کہ تم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ دنیا کی لذتوں پر تم ہزاروں روپے خرچ کرتے ہو جس قدر توفیق ہے خرچ کرتے چلے جاتے ہو اور خوب جانتے ہو کہ ان لذتوں کی پیروی کے بعد پھر مصیبتیں ہیں، پھر بیماریاں ہیں، پھر کئی قسم کے بدنتائج ان سے پیدا ہوتے ہیں۔فرمایا: ”اور یہ مفت کا بہشت ہے ( یعنی نماز جو اس سے ملتا ہے ) قرآن شریف میں دو جنتوں کا ذکر ہے ایک ان میں سے دنیا کی جنت ہے اور وہ نماز کی لذت ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۳ صفحہ: ۵۹۱-۵۹۲) اب یہ غور طلب بات ہے کہ اگر اس دنیا میں جنت نصیب نہ ہوئی ہو تو اس دنیا میں پھر جنت نہیں ملے گی بخشش اور چیز ہے لیکن جو لذتوں سے محرومی ہے وہ پھر بھی اپنی جگہ قائم رہ جاتی ہے اور یہ