خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 449
خطبات طاہر جلدے 449 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۸ء ہوئے دل کی طرف دیکھتے رہیں گے کہ کب نماز سے فارغ ہوں اور میں وہاں مزے کی جگہ پر پہنچوں تو پھر یہ نمازیں دس ہزار برس بھی پڑھیں گے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔یہ نسخہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم بیماروں کے لئے لکھا ہے اس لئے ہمیں اس سے استفادہ کرنا چاہئے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: نماز خدا کا حق ہے اسے خوب ادا کرو اور خدا کے دشمن سے مداہنہ کی زندگی نہ برتو۔وفا اور صدق کا خیال رکھو۔اگر سارا گھر غارت ہوتا ہو تو ہونے دو مگر نماز کو ترک مت کرو۔“ بعض لوگ جو نمازی ہوں اور ان کی بیویاں نمازی نہ ہوں یا بچے نمازی نہ ہوں ان کے لئے بڑے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔وہ گھر میں نماز پڑھتے ہیں اور اپنے گھر میں بچے نا آشنا نظروں سے ان کو دیکھتے ہیں، اجنبی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ یہ جاہل پتا نہیں کہاں سے ہمارے گھر میں آگیا ہے اور بعض دفعہ ایسے لوگ اس تبصرے میں جو خواہ خاموش ہو یا زبان سے کیا ہو زیادہ دیر برداشت نہیں کرتے پھر وہ بستی دکھاتے ہیں پھر وہ کمزوری دکھاتے ہیں۔بعض عورتیں بھی مجھے اس قسم کی باتیں لکھتی ہیں کہ ہم نمازیں پڑھتی ہیں ہمارا خاوند ہمارا مذاق اڑاتا ہے بے پرواہ ہے۔اس کو دنیا کے سوا کوئی ہوش نہیں ہے اس کی وجہ سے ہماری نمازوں پر برے اثر پڑ رہے ہیں۔وہ کیوں پڑھتی ہیں اس لئے کہ وہ اس تنقید کو کچھ وقعت دیتی ہیں اور مجھتی ہیں کہ کچھ نہ کچھ اس تنقید کرنے والے کا میں لحاظ کروں کچھ اس کی خاطر اپنی نمازوں میں کمی کر دوں۔کچھ اس قسم کے خیالات اٹھتے ہوں گے جس کی وجہ سے پھر نمازیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کیسے یہ خیال آیا کہ اس قسم کے بھی گھر ہیں جونماز پڑھنے سے ہو سکتا ہے غارت ہو جائیں ،گھروں کا امن مٹ جائے ،فساد شروع ہو جائیں۔جب تک خدا کی طرف سے یہ عرفان نصیب نہ ہوا ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ خیال نہیں آسکتا مگر چونکہ خدا نے آپ کو معالج مقررفرمایا تھا اس لئے خود ہی ہر قسم کے مریضوں کے علاج کے نسخے بھی عطا فرمارہا تھا۔آپ فرماتے ہیں وفا اور صدق کا خیال رکھو اگر سارا گھر غارت ہوتا ہو تو ہونے دو مگر نماز کو ترک مت کرو۔کوئی دنیا کا مولوی اس قسم کی بات سوچ ہی نہیں سکتا کہ اگر نماز سے سارا گھر غارت ہوتا ہو، وہ تو کہے یہ تو نعوذ باللہ کلمہ کفر ہے کہ