خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 448 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 448

خطبات طاہر جلدے 448 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۸ء ایک کوفت بھی ہو رہی ہے بظاہر مصیبت پڑی ہوئی ہے لیکن ایک وفا شعار بندہ پھر بھی اس نماز کو چھوڑنے پر تیار نہیں : ہ خوش قسمت ہیں اس مجلس میں جو گر پڑ کے جاپہنچے وہی کیفیت ان لوگوں کی ہو جاتی ہے پھر۔شروع میں گرتے پڑتے ہیں، مصیبت میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں اٹھا جاتا نہیں، نیند کا غلبہ ہے پھر بھی زور لگا کر اٹھتے ہیں۔اس وقت بظاہر ان کی نماز نماز نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ اس حالت کو جانتا ہے اگر وہ وفا کے ساتھ ، سچے جذبے کے ساتھ اس حالت پر قائم رہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اسی سے پھر خدا تعالی بچی نماز پیدا کر دے گا۔اس بے ذوقی کی حالت میں یہ فرض کر کے کہ اس سے لذت اور ذوق پیدا ہو یہ دعا کرے کہ اے اللہ ! تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نابینا ہوں“ کیسا عجیب کلام ہے تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نابینا ہوں میں تجھے نہیں دیکھ رہا لیکن یہ شعور ضرور رکھتا ہوں کہ تو مجھے دیکھتا ہے ” اور میں اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہوں۔میں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو میں تیری طرف آجاؤں گا اس وقت مجھے کوئی روک نہیں سکے گا لیکن میرا دل اندھا اور ناشناسا ہے۔تو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا انس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے ، تو ایسا فضل کر کہ میں نابینا نہ اٹھوں اور اندھوں میں نہ جاملوں۔جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام اختیار کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر ایسا آئے گا کہ اس بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رقت پید کر دے گی“ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ: ۶۱۵ - ۶۱۶) تو اسی نماز سے وہ نمازیں پیدا ہوں گی اور لازماً پیدا ہوں گی۔اگر آپ شعور کے ساتھ اور وفا کے ساتھ اس پر قائم رہیں اور خدا سے التجا کرتے رہیں اور اگر آپ غفلت کی حالت میں باہر لٹکے