خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 446
خطبات طاہر جلدے 446 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۸ء ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وو ” جب انسان کی دعا محض دنیاوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلوۃ نہیں لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مدنظر رکھتا ہے (اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِی کی یہ تفسیر ہے ) اور ادب، انکسار، تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوۃ میں ہوتا ہے۔اصل حقیقت دعا کی وہ ہے جس کے ذریعے سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے اور انسان کو نامعقول باتوں سے ہٹاتی ہے۔اصل بات یہی ہے کہ انسان رضائے الہی کو حاصل کرے۔اس کے بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے بھی دعا کرے۔یہ اس واسطے روا رکھا گیا ہے کہ دنیوی مشکلات بعض دفعہ دینی معاملات میں حارج ہو جاتی ہیں۔خاص کر خامی اور کج پنے کے زمانہ میں یہ امور ٹھوکر کا موجب بن جاتے ہیں۔صلوٰۃ کا لفظ پر سوز معنی پر دلالت کرتا ہے۔جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے ویسی ہی گدازش دعا میں پیدا ہونی چاہئے۔“ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۲۸۳-۲۸۴) پھر آپ فرماتے ہیں: نماز کیا چیز ہے؟ نماز اصل رب العزت سے دعا ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ عافیت اور خوشی کا سامان مل سکتا ہے۔جب خدا تعالیٰ اس پر اپنا فضل کرے گا اس وقت اسے حقیقی سرور اور راحت ملے گی۔اس وقت سے اس کو نمازوں میں لذت اور ذوق آنے لگے گا۔جس طرح لذیذ غذاؤں کے کھانے سے مزہ آتا ہے۔اسی طرح پھر گر یہ اور بکا کی لذت آئے گی اور یہ حالت جو نماز کی ہے پیدا ہو جائے گی۔اس سے پہلے جیسے کڑوی دوا کو کھاتا ہے تا کہ صحت حاصل ہو اسی طرح اس بے ذوقی نماز کو پڑھنا اور دعائیں مانگنا ضروری ہیں۔