خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 442 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 442

خطبات طاہر جلدے 442 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۸ء کا موجب بنتی ہے اور سرور کا موجب بنتی ہے۔اس پہلو سے میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات چنے ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ ایک عارف باللہ کی نمازوں کو دیکھ کر آپ اندازہ کرسکیں کہ ابھی کتنا لمبا سفر ہے جو ہمیں کرنا ہے، کتنے خلا ہیں جنہیں ہمیں پُر کرنا ہے، کتنی منازل ہیں جنہیں طے کرنے کے بعد پھر ایک لمبے عرصے کے سفر اور صعوبت کے بعد ہمیں وہ نماز میسر آسکتی ہے جو دراصل مقصود بالذات ہے۔جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا آأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِئ لیکن ان اقتباسات سے پہلے میں اسی آیت میں جو خدا تعالیٰ نے ہماری لئے حل پیش فرمایا ہے اس کے متعلق آپ کے سامنے کچھ مزید بیان کرنا چاہتا ہوں۔جب آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات سنیں گے تو اکثر سننے والوں کے دل دہل جائیں گے اور اکثر سننے والے جو تقویٰ کا بیج رکھتے ہیں اور اپنی حالت سے باخبر ہیں وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ نمازیں تو ہمارے بس کی نہیں۔یہ تو اتنی بلند ہیں اور اتنی مشکل ہیں کہ اگر نماز یہ ہے تو پھر ہم پتا نہیں کیا پڑھتے ہیں۔دل میں خوف پیدا ہو گا اس لئے اگر چہ اس خوف سے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے الفاظ میں اس کا حل میں آپ کے سامنے رکھوں گا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت میں اس کا حل موجود ہے۔اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى میں جو لفظ ” ذکر “ ہے اس میں نمازوں کو آسان کرنے کی کنجی موجود ہے۔ذکر سے مراد ہے یاد۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میری یاد کی خاطر نماز پڑھا کرو۔یعنی جب تم نماز میں حاضر ہو تو مجھے یاد کیا کرو اور اگر آپ نماز کے ظاہری قشر یعنی اس کے جو ظاہری چھلکا سایا خول ہے نماز کا اس سے گھبرانہ جائیں اور یہ نہ سوچیں کہ جتنی جلدی اس خول سے میں باہر آؤں اتنا بہتر ہے تا کہ کچھ آزادی کا سانس لوں۔تو پھر کیا کریں یہ اس کا حل ہے جو اس آیت میں پیش کیا گیا ہے۔فرمایا ہے جتنی دیر تم نماز کی حالت میں ہو یاد رکھو کہ صرف لفظ پڑھنا مقصد نہیں ہے، اللہ کی یاد مقصد ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی یاد کیا کرو۔اب خدا کی یادا گر آپ کسی بھی حالت میں کریں اس میں لذت ہوتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ نماز سے گھبرا کر اس کے الفاظ سے گھبرا کر اگر آپ آرٹیفیشل یا مصنوعی طور پر آپ نماز ادا کرتے رہیں تو آپ کو ساری عمر کی نمازوں میں بھی کبھی لذت نہیں ملے گی۔اگر آپ یہ