خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 441
خطبات طاہر جلدے 441 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۸ء چنانچہ انسان بھی اسی بچپن کی حالت سے گزرتا ہوا جوانی تک پہنچتا ہے اس کے دل کے اٹکنے کی جگہیں تو مختلف ہو سکتی ہیں مگر عادت نہیں بدلتی۔وہ دل اپنا اٹکا تا ضرور ہے کہیں نہ کہیں اور ہر روز اس کی لذت کا ایک خاص معیار مقرر ہو جاتا ہے کہ آج یہ ہوگا اور مزہ آئے گا۔جو کھیلوں کے شوقین ہیں مثلاً آج کل ٹینس کی کھیل ہو رہی ہے۔وہ کسی کام پر بھی چلے جائیں ان کا دل ٹینس میں اٹکا ہوتا ہے۔جو کرکٹ کے شوقین ہیں جب کرکٹ کا ٹیسٹ ہو رہا ہوتا ہے تو خواہ وہ کھانا کھا رہے ہوں ،خواہ وہ کچھ اور کام کر رہے ہوں ان کا ذہن ہر وقت اس انتظار میں رہتا ہے کہ کب کرکٹ کی خبر آئے یا کب مجھے موقع ملے تو میں ٹیلی ویژن پر کرکٹ کو دیکھوں۔دل کے اٹکانے کی جگہیں تو بدل جاتی ہیں ضروری نہیں کہ ہر دفعہ کھانا ہی رہے لیکن جگہیں ضرور ہوتی ہیں اور یہ عادت انسان کی ایسی پک چکی ہوتی ہے بچپن سے کہ وہ پھر اس کو تبدیل نہیں کر سکتا۔اس پہلو سے جب آپ اپنی نمازوں کا جائزہ لیں تو جہاں جہاں بھی آپ کا دل اٹکتا ہے آپ کی نمازوں میں بھی اسی طرف توجہ رہتی ہے۔کوشش کر کے جدو جہد کر کے آپ اسے نماز کی طرف واپس لاتے ہیں اور پھر طبعی طور پر ایک بے اختیار کشش کے ساتھ آپ کا دل اس طرف مائل ہو جاتا ہے جہاں آپ نے اس کو خود لٹکا دیا ہے۔تو توحید پھر کیسی ہوئی ؟ یہ تو بالکل اس منظر کے برعکس منظر ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی نمازوں کا منظر دکھائی دیتا ہے۔آپ باہر ہیں اور دل نماز میں ہے۔ہم نماز میں ہوتے ہیں اور ہمارا دل باہر ہوتا ہے۔اس پہلو سے ہمیں اپنی نمازوں پر بہت ہی محنت کرنی پڑے گی ، بہت ہی زیادہ غیر معمولی توجہ کی ضرورت ہے اور اس توجہ سے پہلے جیسا کہ میں نے پچھلے خطبے میں بھی بیان کیا تھا ہمیں نمازوں کو ظاہری طور پر قائم کرنے کے لئے تو بہر حال ایک محنت کرنی پڑے گی۔جن کی نمازوں کا وجود قائم ہو جائے اپنی ظاہری شکل میں ان کے اندر تو رس بھرنے کی باتیں سوچی جاسکتی ہیں مگر جن کے ہاں ظاہری وجود ہی قائم نہ ہوا ہو اس میں رس کیا بھریں گے، اس کی کیفیت کو تبدیل کرنے کے لئے کوشش کیا کریں گے، منصوبہ کیا بنا ئیں گے۔اس لئے بہت سے مراحل جماعت احمدیہ کو درپیش ہیں اور وہ ابھی ابتدائی حالت میں ہیں۔نمازیں بہت سی منازل سے گزرنے کے بعد پھر اس مقام تک پہنچتی ہیں جہاں پھل پکا کرتے ہیں اور ان پھلوں کو شرینی نصیب ہوتی ہے اور ان کی لذت پھر روح کے لئے غذا