خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 440 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 440

خطبات طاہر جلدے 440 خطبه جمعه ۲۴ جون ۱۹۸۸ء ظاہر فرمادیا۔ فرمایا ٹھیک ہے اگر تم واقعی توحید کے قائل ہو، اگر تمہاری ساری زندگی توحید ہی کی پرستش میں گزرتی ہے تو جس وقت خالصہ میرے سامنے حاضر ہوتے ہو اس وقت تو تمہاری تو حید کو خاص چمک دکھانی چاہئے۔ اس وقت تو سج بن کر تمہاری توحید ظاہر ہونی چاہئے نماز میں۔ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف : (۳۲) کا ایک یہ مطلب ہے کہ اپنی توحید کو سجا کر خدا کے حضور لے کر جاؤ تا کہ نمازوں میں ظاہر ہو کہ ہاں کسی حد تک تم موحد ہو۔ پس نماز کے آئینے میں روزمرہ کی زندگی دکھائی دیتی ہے اور ان دونوں کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ عروسه۔ صلى الله حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے متعلق یہ روایات ملتی ہیں کہ آپ جب نماز نہیں بھی پڑھ رہے ہوتے تھے تو دل نماز میں اٹکا ہوتا تھا۔ یہ مطلب ہے اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِی کا۔ نماز کے باہر بھی جس کا دل نماز میں اٹکا ہو گا نماز میں جا کر اس کی کیا کیفیت ہو گی ۔ وہ غیر اللہ کو تو پھر وہ دل پیش نہیں کر سکتا لیکن اس کے برعکس اگر نماز کی حالت میں دل باہر اٹکا ہو تو پھر ایسے شخص کا توحید کا دعویٰ خام تو ہو سکتا ہے۔ اسے ہم جھوٹا نہ بھی کہیں تو یقینا یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اس کی توحید میں بہت سی کمی رہ گئی ہے، بہت حد تک خام ہے اور اسے خود اس کا علم نہیں ۔ پس یہ بیان جو بالکل سادہ اور عام فہم اور روزمرہ کا دیکھا بھالا معلوم ہوتا تھا جب آپ اس پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے نئے مضامین ہیں اس سے پہلے توجہ ہی نہیں اس طرف گئی ۔ صلى الله ۔ پس اس پہلو سے آپ اب اپنی نمازوں کو دوبارہ دیکھیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ای کا دل نماز سے باہر رہتے ہوئے نماز میں اٹکا ہوتا تھا اور ہمارا دل نماز میں رہتے ہوئے نماز سے باہر اٹکا ہوتا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ ہر انسان کا دل ہر روز کسی نہ کسی آویزش کی جگہ لٹک جایا کرتا ہے اور اٹک جایا کرتا ہے۔ جس طرح آپ کوئی چیز کسی کھونٹی سے لڑکاتے ہیں روزمرہ کی زندگی میں میں نے تجربہ کیا ہے کہ ہر انسان اس دن کسی نہ کسی لذت سے اپنا دل لڑکا دیتا ہے اور وہ اس کے اس دن کا معراج ہوتا ہے۔ چنانچہ بچے بعض دفعہ جن کو وہ خاص کھانا پسند ہو اور ان کو پتا ہو کہ سکول سے آنے کے بعد وہ کھانا ضرور پکا ہو گا سارا دن سکول میں ان کا دل اس کھانے میں اٹکا ہوتا ہے اور واپس آکر اگر دیکھیں کہ وہاں کھانا وہ نہیں ہے تو پھر ان کی کیفیت دیکھیں کیا حال ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ سارا دن ان کا ضائع ہو گیا اور تباہ ہو گیا۔