خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 440
خطبات طاہر جلدے 440 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۸ء ظاہر فرما دیا۔فرمایا ٹھیک ہے اگر تم واقعی تو حید کے قائل ہو، اگر تمہاری ساری زندگی توحید ہی کی پرستش میں گزرتی ہے تو جس وقت خالصہ میرے سامنے حاضر ہوتے ہو اس وقت تو تمہاری تو حید کو خاص چمک دکھانی چاہئے۔اس وقت تو سج بن کر تمہاری توحید ظاہر ہونی چاہئے نماز میں۔خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف: ۳۲۱) کا ایک یہ مطلب ہے کہ اپنی تو حید کو سجا کر خدا کے حضور لے کر جاؤ تا کہ نمازوں میں ظاہر ہو کہ ہاں کس حد تک تم موحد ہو۔پس نماز کے آئینے میں روز مرہ کی زندگی دکھائی دیتی ہے اور ان دونوں کا بڑا گہرا تعلق ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے متعلق یہ روایات ملتی ہیں کہ آپ جب نماز نہیں بھی پڑھ رہے ہوتے تھے تو دل نماز میں اٹکا ہوتا تھا۔یہ مطلب ہے اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِی کا۔نماز کے باہر بھی جس کا دل نماز میں اٹکا ہو گا نماز میں جا کر اس کی کیا کیفیت ہوگی۔وہ غیر اللہ کوتو پھر وہ دل پیش نہیں کر سکتا لیکن اس کے برعکس اگر نماز کی حالت میں دل باہر انکا ہو تو پھر ایسے شخص کا توحید کا دعویٰ خام تو ہوسکتا ہے۔اسے ہم جھوٹا نہ بھی کہیں تو یقینایہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اس کی توحید میں بہت سی کمی رہ گئی ہے ، بہت حد تک خام ہے اور اسے خود اس کا علم نہیں۔پس یہ بیان جو بالکل سادہ اور عام فہم اور روز مرہ کا دیکھا بھالا معلوم ہوتا تھا جب آپ اس پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے نئے مضامین ہیں اس سے پہلے توجہ ہی نہیں اس طرف گئی۔پس اس پہلو سے آپ اب اپنی نمازوں کو دوبارہ دیکھیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ملنے کا دل نماز سے باہر رہتے ہوئے نماز میں اٹکا ہوتا تھا اور ہمارا دل نماز میں رہتے ہوئے نماز سے باہر اٹکا ہوتا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ ہر انسان کا دل ہر روز کسی نہ کسی آویزش کی جگہ لٹک جایا کرتا ہے اور اٹک جایا کرتا ہے۔جس طرح آپ کوئی چیز کسی کھونٹی سے لٹکاتے ہیں روز مرہ کی زندگی میں میں نے تجربہ کیا ہے کہ ہر انسان اس دن کسی نہ کسی لذت سے اپنا دل لٹکا دیتا ہے اور وہ اس کے اس دن کا معراج ہوتا ہے۔چنانچہ بچے بعض دفعہ جن کو وہ خاص کھانا پسند ہو اور ان کو پتا ہو کہ سکول سے آنے کے بعد وہ کھانا ضرور پکا ہو گا سارا دن سکول میں ان کا دل اس کھانے میں انکا ہوتا ہے اور واپس آکر اگر دیکھیں کہ وہاں کھانا وہ نہیں ہے تو پھر ان کی کیفیت دیکھیں کیا حال ہوتا ہے۔یوں لگتا ہے کہ سارا دن ان کا ضائع ہو گیا اور تباہ ہو گیا۔