خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 439
خطبات طاہر جلدے 439 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۸ء واقعۂ ظاہر نہیں ہوتی۔ہماری اکثر نمازیں ذکر الہی سے اس طرح خالی ہوتی ہیں جیسے بعض دفعہ سوکھے ہوئے مالٹے شکل وصورت کے ساتھ دیکھنے سے اسی طرح رنگین اور خوش شکل اور بھرے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں بلکہ بعض دفعہ سوکھے ہوئے مالٹے زیادہ بھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں وہ پھول بھی جاتے ہیں تھوڑے سے لیکن جب ان کو کھولتے ہیں تو ہر پھانک رس سے خالی ہوتی ہے۔کہیں کہیں رس کا چھینٹا نظر آتا ہے۔تو اس پہلو سے اگر انسان حقیقت کی نظر سے اپنی نمازوں کا جائزہ لے تو اس کی نماز کی اکثر پھانکیں ذکر الہی سے اسی طرح خالی دکھائی دیں گی ہاں کہیں کہیں چھینٹے نظر آئیں گے۔پھر انسان اپنی نمازوں پر غور کرے جب وہ نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھتا ہے یا تسبیح وتحمید کرتا ہے تو کس حد تک اس کی توجہ سورۃ فاتحہ کے مضمون کی طرف رہتی ہے اور تسبیح وتحمید کرتے وقت کس حد تک وہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں ان اعلیٰ صفات کو دیکھ رہا ہوتا ہے جو اس کی زبان بیان کر رہی ہوتی ہے۔اس نظر سے اگر آپ غور کریں تو ہر شخص جو اپنے اندر سچائی کا بیج رکھتا ہے اس کا جواب نفی میں ہوگا کہ بسا اوقات میری تو جھات دوسرے مضامین کی طرف رہیں لیکن ذکر الہی کرتے وقت ایسا بھر پور ذکر کرنے کی مجھے توفیق نہیں مل سکی کہ مسلسل میری توجہ خدا کی طرف ہو۔تو یہ جو فرمایا اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِی یہاں خدا تعالیٰ نے پہلے بیان کی جانچ کے لئے ہمارے سامنے ایک پیمانہ رکھ دیا۔نماز وہ آئینہ ہے جس میں روز مرہ کی زندگی کی توحید یا روزمرہ کی زندگی کا شرک دکھائی دے دیتا ہے اور اس بیان کی تان جو اس بات پر توڑی گئی اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِی تو متوجہ یہ فرمایا گیا ہے کہ تم لاکھ تو حید کے دعوے کرو، لاکھ کہو کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے لیکن جب تم نمازوں میں میرے سامنے حاضر ہو گے اس وقت تمہاری تو حید جانچی اور پہچانی جائے گی۔دنیا میں تو تمہارے سامنے یہ عذر ہے کہ ہاں تو حید تو ہے اپنی جگہ لیکن تو حید کے سوا بھی تو وہ مشاغل ہیں۔انسان نے زندہ رہنا ہے، دنیا کے کارخانے میں بسر اوقات کرنی ہے اسی لئے خدا سے توجہ ہٹ گئی تو کوئی حرج کی بات نہیں عمداً ایسا نہیں ہوا۔دل تو حید ہی کی طرف مائل ہے لیکن کاموں میں مصروفیت کی وجہ سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے سامنے تو کوئی حیلے، کوئی عذر پیش ہو نہیں سکتے اس کے سامنے کچھ عذروں کی پیش نہیں جاتی۔پس دیکھیں خدا تعالیٰ نے کس حکمت کے ساتھ، کس شان کے ساتھ بندے کا جھوٹ اس پر