خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 431 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 431

خطبات طاہر جلدے 431 خطبہ جمعہ ۷ ارجون ۱۹۸۸ء اپنی طرف سے کسی امر پر مامور فرما کر بھیجا۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْ نَهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ کہ صرف تیرے ساتھ یہ معاملہ نہیں یہ تقدیر عام ہے جس کسی کو بھی میں بھیجتا ہوں بھیجنے کے بعد اس قوم پر جس قوم میں وہ بھیجا جاتا ہے کئی قسم کی تکلیفیں بھی میں نازل کرتا ہوں۔انہیں جھنجوڑتا ہوں، انہیں بیدار کرنے کی کوشش کرتا ہوں تا کہ وہ سمجھیں اور غور کریں کہ جو کچھ انکے ساتھ ہو رہا ہے یہ کسی غیر معمولی واقعہ کی بناء پر ہے۔کوئی ایسی بات ظہور ہوئی ہے جسے ہم نے نظر انداز کر دیا ہے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہم پر دن بدن بڑھتی چلی جاتی ہے۔یہ وہ وجہ ہے ورنہ عذاب دینا مقصود بالذات نہیں ، تکلیف پہنچانا اللہ تعالیٰ کے منشاء میں داخل نہیں اور اس مضمون پر پہلے بھی میں ایک دفعہ تفصیلی روشنی ڈال چکا ہوں کہ نہ بے دینوں کو تکلیف پہنچانا تقدیر الہی ہے نہ ایمانداروں کو تکلیف پہنچانا تقدیر الہی ہے۔جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے تکلیف نازل کی جاتی ہے تو کسی مقصد کی خاطر۔اگر اپنوں اور پیاروں کو تکلیف دی جائے تو وہ مقصد انکے حق میں اچھے حالات پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے، انکے حق میں خدا تعالیٰ کے پیار کو دنیا کے سامنے مزید ظاہر کرنے کا موجب بنتا ہے اور ان کی ہر تکلیف کو ایک باقی رہنے والی، جاری رہنے والی آسائش میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور ہر ان کا آنے والا دن ان کے ہر گزرے ہوئے دن سے بہتر ہوتا چلا جاتا ہے۔اس کے برعکس اس آیت کریمہ سے پتا چلتا ہے کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوؤں کا انکار کرتے ہیں اور اس پہ اصرار کرتے ہیں ان کو بھی تکلیفیں دی جاتی ہیں اور وقتی طور پر انکی تکلیفوں کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے لیکن پھر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا آخری فیصلہ ان کے متعلق ظاہر ہو جاتا ہے اور یہ سلوک ہمیشہ منکرین سے ہوا ہے ماننے والوں کے ساتھ نہیں ہوا۔چنانچہ اس سلوک کا آخری نقطہ خدا تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا وہ تو میں جو ظلم کرتی ہیں ، وہ قوم جس نے ظلم کیا ان کی جڑیں کاٹ دی گئیں، ان کو بنیا دوں سے اکھیڑ دیا گیا گویا ہمیشہ کیلئے انکی طاقت کے چشمے ان سے کھینچ لئے گئے اور خشک کر دیئے گئے اور اس کے بعد پھر انہیں سر اٹھانے کا موقع نہیں ملا۔یہ وہ تقدیر ہے اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سچے ہیں جیسا کہ ہم کامل یقین رکھتے ہیں کہ آپ بچے ہیں ، اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُسی رسول کے غلام اور عاشق ہیں