خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 411
خطبات طاہر جلدے 411 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۸ء ہی بھیا نک شکل اختیار کر چکا ہے،سارے عالم اسلام کو لاحق ہوا ہوا ہے۔تم ایک حصہ ہو اس خطرہ کا اس خطرہ نے ایران میں ایک اور شکل اختیار کرلی ہے، اس خطرہ نے عراق میں ایک اور شکل اختیار کر لی ہے اس خطرہ نے شام میں ایک اور شکل اختیار کی ہوئی ہے، اس خطرہ نے لبنان میں ایک اور شکل اختیار کی ہوئی ہے، ایک ملائیشیا میں اس کی شکل ظاہر ہوئی ہے، ایک انڈونیشیا میں اس کی شکل ظاہر ہوئی ہے اور اس خطرہ کے پیچھے خواہ اس کی کتنی ہی مختلف شکلیں ہوں نہایت ہی خطرناک عالمی منصوبے کام کر رہے ہیں اور عالم اسلام کے خلاف عالمی سازشیں کام کر رہی ہیں۔پس یہ سارے عالم میں جو ظلم ہورہا ہے اسلام پر اور اسلام ہی کے نام پر اس کا ایک حصہ ہے اسی خطرہ کا ایک حصہ ہے اور اسی کھیل کا ایک حصہ ہے جو پاکستان میں کھیلا جارہا ہے۔تم اس پیارے وطن کی فکر کرو جو ہمیں بھی عزیز اور تم سے زیادہ بڑھ کر عزیز ہے۔اس وطن عزیز کو اگر کوئی نقصان پہنچا تو سب سے زیادہ ہمیں نقصان ہوگا اور ہمیں دکھ پہنچے گا۔واقعہ ملک اس وقت ایسی ہلاکت کے کنارے پر پہنچ چکا ہے جیسے قبروں میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہو اور پوری قوم اس ظلم میں بلا واسطہ یا بالواسطہ ملوث ہو چکی ہے۔اپنے اپنے مفاد کی خاطر ، اپنے اپنے دھڑوں کے مفادات کی خاطر سارے ملک اور قوم کے مفادات کو بیچا جارہا ہے اور سارے ملک اور قوم کے مفاد پر ظلم کیا جارہا ہے اور کوئی دیکھنے والا نہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے۔اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے میں اس جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس تعلق کو استعمال کریں اور دعائیں کریں اور گریہ وزاری کریں اور استغفار کریں کثرت کے ساتھ اور دعا کریں کثرت کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ان کو نصیحت دے، ان کو ہدایت دے ان کو عقل دے اور ان کی آنکھیں کھولے۔اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے اور ہمیں اس پاک وطن کی طرف سے خوشیاں دیکھنی نصیب ہوں“