خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 399 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 399

خطبات طاہر جلدے 399 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء کر پیش کرتے ہیں کہ جو کہنے والے کا منشاء ہے اُس کے برخلاف اُس کی بات سے نتیجہ نکالتے ہیں اور ایک ایسی بات اُس کی طرف منسوب کرتے ہیں جو مقصود نہیں ہے۔اس پہلو سے وہ رسالہ دجل کا اور فریب کاری کا ایک شاہکار ہے لیکن جو اُس رسالے میں روح پیش کی ہے وہ ساری جھوٹی ہے۔نتیجے جو نکالے گئے ہیں وہ سب جھوٹے ہیں۔مثلاً وہ لکھتے ہیں کہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر سے کہ نعوذ باللہ آپ نے یہ تسلیم کیا کہ آپ کو انگریزوں نے اور آپ کی جماعت کو انگریزوں نے خود کاشت کیا تھا اور وہ خدا کی طرف سے گویا نہیں ہے۔پھر وہ لکھتے ہیں وہ تمام اسلام دشمن قوتوں کو اپنی پوری وفاداری کا یقین دلاتے رہے۔یہ وہ مضمون ہے جو افتراء سے تعلق رکھتا ہے ایسے افتراء سے جس کی کسی قسم کی کوئی بنیاد کہیں موجود نہیں اور ساتھ ہی اس فقرے کا بھی اضافہ کر دیا گیا کہ نام نہاد اسرائیلی فوج کے اندر اس کا وجود اب ایک کھلا راز ہے۔یعنی نام نہاد اسرائیلی فوج میں جماعت احمدیہ کے سپاہیوں کا وجود ایک کھلا راز ہے۔جو اس نام نہاد شخص کو پتا ہے اور کسی کو نہیں۔اپنے آپ کو برطانوی استعمار پسندوں اور اپنے آپ کو انگریزوں کا خود کاشتہ پودا خود کہتے ہیں۔ختم نبوت سے صریح انکار ہے اور پھر مسخر کے رنگ میں یہ لکھنے کی بھی جسارت کی گئی ہے اس حکومت کے نمائندہ رسالہ میں کہ بعض اہل قلم نے لکھا ہے۔بعض اہل قلم نے یہ فقرہ آپ اندازہ کریں اس سے کتنا وزن رہ جاتا ہے بات میں بعض اہل قلم نے لکھا ہے کہ مرزا کوگھر کا کچھ مال غبن کرنے کی پاداش میں انکے باپ نے گھر سے نکال دیا تھا۔افتراء پردازی تخفیف ، تحقیر، تضحیک کا یہ ایک مرقع رسالہ ہے اور حکومت پاکستان کی خرچ پر حکومت کی طرف کھلم کھلے لفظوں میں منسوب ہوکر نکالا گیا ہے اور اس کے تراجم بھی کئے گئے۔عربی ، انگریزی اور خدا جانے کس اور زبان میں۔تو اس رسالے کے مصنفین اور جن لوگوں کی ایماء پر یہ رسالہ شائع کیا گیا اور جو لوگ ان باتوں پر ایمان رکھتے ہیں جو اس رسالہ میں بیان کی گئیں اور جماعت احمدیہ پر یہ اتہامات لگاتے ہیں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اتہام لگاتے ہیں۔وہ سارے میرے مخاطب ہیں خواہ وہ حکومت کے کسی بھی عہدے سے تعلق رکھتے ہوں یا حکومت سے باہر ان علماء سے تعلق رکھتے ہو جو اس رسالہ میں کسی طرح شریک ہوئے یا اُن عوام سے تعلق رکھتے ہوں جو کھلے لفظوں میں کامل یقین کے ساتھ ان باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور اس چیلنج کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہیں کہ اگر وہ جھوٹے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی لعنت ان پر