خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 34
خطبات طاہر جلدے بنا لینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: 34 === خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۸۸ء آج نمازوں کے بعد کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔سب سے پہلے تو ہمارے سلسلہ کے بہت ہی مخلص فدائی، بے نفس بزرگ مکرم مرزا عبدالحق صاحب امیر صوبائی پنجاب کی اہلیہ سکینہ بیگم صاحبہ کی نماز جنازہ غائب پڑھانی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ امریکہ کے سفر کے دوران یا تو یہ خبر مجھے ملی نہیں یا سرسری طور پر بیان ہوئی ہے تو میں پوری طرح سمجھ نہیں سکا اور اس وقت جب صدمہ تازہ تھا اس وقت نماز جنازہ پڑھا دینی چاہئے تھی مگر واپس آکر پھر یہ اطلاع ملی اور پھر مرزا صاحب کا خط بھی ملا ہے انہوں نے بھی تحریک کی ہے۔مرزا صاحب کی خدمات اور بے نفس خدمات سلسلہ کی یہ تو ظاہر وباہر ہیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں انکا صدمہ ہم سب کا صدمہ ہے جس حد تک بھی ہمارا ان سے تعلق ہے ہم اس میں شریک ہیں اللہ تعالی انکی مرحومہ بیگم سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور سایہ رحمت میں جگہ دے۔اسی طرح ہمارے ایک اور امیر جماعت ہیں اسلام آباد کے بڑے مخلص فدائی امیر ہیں شیخ عبد الوھاب صاحب انکے والد محترم شیخ عبد الرحمان صاحب کپورتھلوی صحابی تو مجھے علم نہیں مگر موصی تھے یہ ربوہ میں چند دن ہوئے وفات پاگئے ہیں۔پھر ہمارے بہت ہی مخلص جوان آغاز پختہ جوانی کی عمر میں تھے ملک رشید احمد صاحب مسقط میں غالباً ہماری جماعت کے صدر تھے اور بہت ہی مخلص بہت اچھے کارکن اور یہاں ایسا اچھا مالی نظام انہوں نے وہاں مستحکم کیا اپنے علاقے میں باوجود بہت ساری دقتوں کے کہ انکی رپورٹیں دیکھ کر بسا اوقات دل سے انکے لئے دعا نکلتی تھی اور میں نے کئی دفعہ اظہار بھی کیا کہ ماشاء اللہ آپ کا کام ایک مثالی کام ہے۔انکو پہاڑی سے گر کر ایسی شدید چوٹیں آئیں کہ جس کے نتیجہ میں کچھ عرصہ کے بعد وہ مالک حقیقی سے جاملے اور جانبر نہ ہو سکے۔انکی بیوی بچے ابھی چھوٹی عمر کے ہیں۔انکے بھائی ملک مسعود احمد صاحب امریکہ میں بڑے مخلص کارکن ہیں سلسلہ کے مرکزی مجلس عاملہ کے ممبر ہیں ملک مبارک احمد صاحب واشنگٹن میں ہیں اسی طرح ملک اعجاز، ملک محمود وغیرہ جتنے بھی بھائی ہیں وہ سارے اللہ کے فضل سے خدمت دین میں پیش پیش ہیں۔اس لئے ملک رشید صاحب کو بھی خصوصی دعا میں