خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 380
خطبات طاہر جلدے 380 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء ہیں کہ ایک بڑی وجہ اُن سب مظالم کی جو ہمیں دکھائی دے رہے ہیں اور غیر انسانی حرکتوں کی اور سفاکانہ قتلوں کی اور لوٹ مار کی یہ ہے کہ جب احمدیوں پر مظالم ہوئے تو ہم خاموش رہے اور احمدیوں پر مظالم نے انسانی بہیمانہ طاقتوں کو آزادی دے دی اور ہمارے نو جوانوں نے گویا یہ پیغام حاصل کرلیا کہ کوئی انسانی قدر نہیں ہے جو چاہو کرو۔کیسا عظیم الشان تبصرہ اور تجزیہ ہے اور انہوں نے بڑی جرات کے ساتھ ۱۸ جولائی ۱۹۸۷ء میں یہ تبصرہ جنگ اخبار میں شائع کیا۔اس کی تفصیل پڑھنے کی ضرورت نہیں میں نے خلاصہ اس کا بیان کر دیا ہے۔یہ تو ہوا احمدیوں کے ساتھ معاملہ۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ان ارادوں میں ، یہ ظلم کرنے والے اور اس قسم کے بہیمانہ اقدامات کرنے والے ، انسانی قدروں کو کچلنے والے بچے تھے۔اگر وہ واقعۂ خدا کی محبت اور اسلام کی محبت میں ایسی باتیں کر رہے تھے۔تو قطع نظر اس کے کہ وہ غلط ہے۔یعنی اسلام اور خدا کی محبت میں ایسی باتیں نہیں کی جاتیں۔اگر وہ بچے تھے تو کچھ نہ کچھ تو خدا کی طرف سے ایسی علامتیں اُن کے حق میں ظاہر ہوتیں کہ یا اُن کو اپنے باطل اقدامات سے رُک جانے کی توفیق مل جاتی اور ان ظلموں میں آگے بڑھنے سے خدا اُن کو روک دیتا یا جن کوششوں کو اسلام کی خدمت قرار دے رہے تھے اُن کوششوں کو خدا تعالیٰ کوئی اچھے پھل لگا دیتا اور احمدیت کے حصے سے قطع نظر باقی جگہ مسلمانوں کی خدمت کی توفیق عطا کرتا، پاکستان کی خدمت کی توفیق عطا کرتا تو ہم یہ سوچ سکتے تھے کہ شاید ان کی نیت ٹھیک تھی۔فیصلے جاہلا نہ ہوتے ہوں بعض دفعہ ایک اچھی نیت والا آدمی بھی بے عقلی کے فیصلے کر دیا کرتا ہے۔لیکن جو کچھ رونما ہوا ہے وہ اس حسن ظنی کا کوئی امکان باقی نہیں رہنے دیتا۔جو کچھ واقعہ پاکستان کے پردے پر ظاہر ہو گیا اُس کے بعد اُس سے پتا چلتا ہے کہ اوّل سے آخر تک اسلام کی خدمت کا ادعا کرنے والے جھوٹے تھے ، ان کا ظاہر بھی جھوٹا، تھا ان کا باطن بھی جھوٹا تھا اور خدا تعالیٰ نے نہایت نا پسندیدگی اور کراہت کی نگاہ سے ان چیزوں کو دیکھا اور ہر دعوی کو الٹا کر دکھایا۔ہرا دعا کو غلط ثابت نہیں کیا بلکہ برعکس نتیجہ نکال کے دنیا کو دکھایا کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں اور میرے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔سب سے پہلے یہ ۶ / جولائی ۱۹۸۵ء کا بیان ہے اصغر خاں صاحب کا جب ابھی اسلام کو نافذ کرنے کے بلند بانگ دعوے ابھی بڑے زور سے جاری کیے جارہے تھے اور شہرت کی وہ دھوپ