خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 379
خطبات طاہر جلدے 379 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء نے سمجھا ہو کہ سیاسی رہنما کے طور پر میرا فرض ہے کہ قوم کو ان باتوں سے متنبہ کروں اور ان ظلموں کے خلاف آواز بلند کروں۔چنانچہ اُن میں سر فہرست ولی خاں ہیں اور اسی طرح بلوچستان کے بزنجو صاحب بلکہ غالباً آغاز اُن کی طرف سے ہوا تھا اور بھی بہت سے سیاسی رہنما تھے جنہوں نے احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی ہے جو اس سے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔پھر دانشوروں نے اور پاکستان کے وکلاء وغیرہ میں سے جو انصاف کے شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں اُن میں ایک نمایاں نام فخر الدین ابراہیم صاحب کا ہے جو سپریم کورٹ کے جسٹس رہے ہیں انہوں نے بھی اور اُن کے علاوہ اور بہت سے ساتھیوں نے خود اُن کی ایما پر با قاعدہ تحریری طور پر اعلان جاری کیے اور بڑی شدت کے ساتھ ان باتوں کی مذمت کی۔پھر بیگم رعنا لیاقت علی خان نے بڑی بہادری کے ساتھ اور بڑی جرات کے ساتھ واشگاف الفاظ میں ان ساری حرکتوں کی مذمت کی اور اُن کی بڑی جرات تھی ایک خاتون ہوتے ہوئے جانتے ہوئے کہ دنیا پیچھے پڑ جائے گی، بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔پھر بعض ایسے سیاسی رہنما ہیں جن کا عام طور پر مذہبی رحجان نہیں پایا جا تا ، جن میں مذہبی رحجان عام طور پر معروف نہیں ہے اور جس کو کہتے ہیں غیر مذہبی سیاست سے تعلق رکھنے والے ہیں لیفٹسٹ (Leftist) سیاست سے، بائیں بازو کی سیاست سے تعلق رکھنے والے ہیں۔اُن کے اندر بھی یہ تعجب ہے کہ اُن کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ یہ حرکتیں صرف غیر انسانی نہیں بلکہ خدا کے عذاب کو بلانے والی حرکتیں ہیں اور خطرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے ملک کو صفحہ ہستی سے مٹادے جہاں ایسے ظلم ہورہے ہیں۔ان سربراہوں میں سب سے زیادہ نمایاں اور قابل احترام نام معراج محمد خان صاحب کا ہے۔سارا پاکستان ان کو جانتا ہے کہ یہ بائیں پہلو کی سیاست سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ہمیشہ سے رہے ہیں اور کبھی بھی انہوں نے اس بارے میں ترد نہیں کیا۔انہوں نے لندن میں یہ بیان دیا کہ کلمہ طیبہ کے بیج لگانے والوں کو گرفتار کرنے سے ملک ٹوٹ جائے گا اور دیار غیر میں مقیم پاکستانی ایک دن فاتحوں کی طرح لوٹیں گے۔اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ ان کے منہ سے یہ بات نکلوائی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل پر ان مظالم کا بہت گہرا اثر پڑا ہے اور دل اس طرف متوجہ ہوا ہے کہ ایسے مظالم کے بعد پھر خدا کے عذاب کی تقدیر ضرور آیا کرتی ہے۔ایک ضیاء شاہد صاحب ہیں مقالہ نگار جو جنگ لاہور میں پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے اُس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے