خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 378
خطبات طاہر جلدے 378 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء کوٹ کے ان کو چھوڑ دیا با قاعدہ جیل نہیں بھجوایا وہ تعداد تو شمار میں آتی نہیں۔تو بلاشبہ ہزار ہا احمدی ہیں جنہوں نے اس دور میں عملاً حکومت کی ان بلا رادہ کوششوں کے نتیجے میں تکلیفیں اُٹھائی ہیں۔حکومت نے اس عرصہ میں جو کارنامے سرانجام دیئے ” خدمت اسلام کے اُن کا خلاصہ یہ ہے کہ ۸۰ مساجد سے حکومت کے نمائندوں نے بار بار کلمہ طیبہ مٹایا۔بعض جگہ سے پانچ پانچ دفعہ بعض جگہ سے ۱۵،۱۵ دفعہ اور ہر دفعہ جب احمدی لکھتے تھے تو پھر کچھ احمدیوں کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیتے تھے کہ اب باز آجائیں گے لیکن مسلسل لکھتے رہے ہیں اور اگر کوئی اور چیز نہیں ملی تو گندی نالی سے کیچڑ نکال کے اُس کے ساتھ اُنہوں نے کلمہ طیبہ مٹایا ہے۔اگر کوئی مسلمان سپاہی آمادہ نہیں ہوا تو گاؤں کے چوہڑے کو بلالیا کہ تم یہ کمہ مٹاؤ کیونکہ کوئی مسلمان سپاہی آمادہ نہیں ہوتا۔یہ اسلام کے نافذ کرنے کے جو عظیم الشان عزائم تھے جو آپ کے سامنے پیش کیے گئے تھے یہ اُس کی جھلکیاں ہیں، ان وعدوں کو پورا کرنے کی بعض جھلکیاں ہیں۔۶ احمد یہ مساجد شہید کر دی گئیں۔باقاعدہ حکومت کی نگرانی میں احمدیوں کو پکڑ کر لے جایا گیا پیچھے خالی جگہ چھوڑ کر اُن پر حملے کروائے گئے۔باقاعدہ وہاں پولیس کا پہرہ رہا کہ کوئی باہر سے احمدی آکر وہاں شرارت نہ کرے یعنی مسجد کو بچانے کی کوشش نہ کرے اور ۱۲ مساجد کو جلانے کی کوشش کی گئی یا ویسے ہی نقصان پہنچایا گیا لیکن خدا کے فضل سے وہ بچ گئیں۔9 مساجد اس وقت سر بمہر ہیں کہ وہاں احمدیوں کو خود اپنی مساجد میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔۱۸۵ کتب اور رسائل ضبط کیے گئے ہیں۔۱۷ احمدیوں کی قبریں اکھیڑ کر اُن کی لاشیں ایک جگہ سے کسی اور جگہ منتقل کی گئیں ہیں۔۱۵ احباب کی تدفین میں روکیں ڈالی گئیں یہاں تک کہ اُن جگہوں میں تدفین کے بجائے انہوں نے دوسری جگہ جہاں احمدیوں کی اپنی جگہیں تھیں اُن کو دفن کیا۔۱۶ احمدی اس عرصے میں شہید ہوئے اور اُس کے علاوہ قاتلانہ حملے ۱۴ پر ہوئے۔جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بچالیا لیکن شہادت بھی تو خدا کا فضل ہے بلکہ ایک رنگ میں اعلیٰ فضل ہے۔مگر محاورہ اس دنیا میں رہنے والوں کو چونکہ غم سے بچایا ان معنوں میں میں نے کہا ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ نے ہم پر فضل کرتے ہوئے بچالیا۔اس عرصے میں پاکستان کی شرافت کلیۂ وہ گونگی نہیں رہی بلکہ مختلف سیاسی لیڈروں نے ، چاہے سیاسی مقاصد کی خاطر بیان دیئے ہوں یا اُن کا ضمیر اس قوت سے جاگ اُٹھا ہو کہ انہوں