خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 377 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 377

خطبات طاہر جلدے 377 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء مظلوموں اور بے گناہوں کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا اور وہ انتہائی تکلیف کی حالت میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں ، چار ایسے ہیں۔مسلمان ظاہر کرنے کے جرم میں خواہ منہ سے مسلمان کہا گیا یا یہ الزام لگایا گیا کہ مسلمانوں جیسی حرکتیں کر رہا تھا۔جن احمدیوں کو پہلے تو جسمانی طور پر زدو کوب کیا گیا، تکلیفیں دی گئیں اور پھر قیدوں میں ڈالا گیا اُن کی تعداد ۹۶ ہے۔یعنی جو ہمارے ریکارڈ میں آئی ہیں۔کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات لکھنے کے جرم میں ۴۸۷ احمدیوں کو قید کیا گیا اور ابھی تک ان پر مقدمے چل رہے ہیں۔مساجد کے دفاع کے جرم میں یعنی جب دشمن حملہ آور ہوا اور مساجد کوتوڑنا چاہتا تھا اور احمدیوں نے فیصلہ کر لیا کہ جو کچھ ہو گا جان پر کھیل جائیں گے لیکن ان ظالموں کو مسجدوں کو منہدم نہیں کرنے دیں گے۔تو اُس جرم میں کہ تم نے اپنی مسجدوں کا دفاع کیوں کیا یا مسجدوں پر کلمہ کیوں لکھا ۲۴۳ احمدیوں کو قید کیا گیا۔سب کو تو نہیں کر سکتے تھے اس لیے اُن میں سے کچھ کو پکڑ لیتے تھے۔راولپنڈی میں بھی یہی ہوار بوہ کی ایک مسجد میں بھی یہی ہوا اور بہت سی مساجد میں اس طرح کے واقعات ہوئے اور جن مسجدوں کو منہدم کیا گیا ہے، اُن کو منہدم کرنے سے پہلے تمام احمدیوں کو مردوں عورتوں بچوں کو عورتوں کو تو خیر نکال دیا گیا تھا۔بوڑھوں ،مردوں جوانوں اور بچوں کو کلیۂ پولیس نے اپنی تحویل میں لے کو وقتی طور پر تھانے لے گئی اور محصور کر دیا۔جب ایک بھی احمدی وہاں مسجد کے دفاع میں اپنی جان فدا کرنے والا نہیں رہا۔تب مسجدوں کو منہدم کیا گیا اور اسے کہا جاتا ہے کہ یہ علماء کر رہے ہیں۔جب تک سو فیصد حکومت سازشوں میں شریک نہ ہو اس قسم کے واقعات ہو ہی نہیں سکتے۔نماز پڑھنے کے جرم میں اور اذان دینے کے جرم میں گرفتاریاں ۱۵۲ تقسیم لٹریچر اور تبلیغ کے جرم میں ۴۰ گرفتاریاں، توہین رسالت نعوذ باللہ سوچیں ذرا ، ہم نے نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ کی تو ہین کی ہے۔تو ہین کیا کی ہے کلمہ پڑھا ہے یہ کہا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ یا سیرت کے جلسے میں تقریر کی ہے یا سیرت کے جلسے میں شامل ہوئے ہیں۔۲۴ احمدیوں کے خلاف یہ دفعہ لگا کر مقدمہ درج کیا گیا۔اسلامی شعار کے استعمال کے جرم میں ۲۴ متفرق جماعتی مقدمات ۱۶۳ اس کے علاوہ ہیں اور جو کلمہ کے جرم میں لوگ پکڑے گئے ہیں کنری وغیرہ میں اس کے علاوہ بہت سی جگہوں میں سینکڑوں کی تعداد میں پکڑے گئے اور پھر چھوڑے گئے۔وہ تعداد تو ان گنت ہے۔وقتی طور پر پولیس نے انہیں مار