خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 376
خطبات طاہر جلدے 376 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء برداشت کر رہے ہیں۔کوئی زندگی کا ایسا شعبہ نہیں جہاں روزانہ جماعت احمد یہ کو مظالم کا نشانہ نہیں بنایا جاتا اور بہت سے ایسے شعبے ہیں بھاری شعبے ایسے ہیں جن کا کوئی باقاعدہ اعداد وشمار میں ریکارڈ دنیا کے سامنے پیش کیا ہی نہیں جاسکتا۔ابھی کچھ عرصہ پہلے جرمنی کے دورے کے دوران ایک عدالت کے چیف جسٹس تھے ، وہ مجھ سے ملنے کے لیے آئے ، اُن کو پہلی دفعہ اس بات کی سمجھ آئی کہ جماعت احمدیہ کو واقعہ ووٹ دینے کے بنیادی حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔وہ کہتے یہ بات میں نے سنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں مان ہی نہیں سکتا۔حکومت پاکستان کہتی ہے ہمیں کہ دکھاؤ وہ قانون ہم نے کب ان کو ووٹ کے حق سے محروم کیا ہے؟ میں نے کہا میں آپ کو سمجھا دیتا ہوں۔میں نے کہا ہر ووٹر کے لیے ایک فارم ہوتا ہے جسے وہ بھرتا ہے اور اس فارم پر یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر تم مسلمان ہو اور مسلمان لکھنا چاہتے ہو تو تمہیں مرزا غلام احمد کے او پر لعنت ڈالنی پڑے گی اور اگر تم اپنے آپ کو غیر مسلم کے خانے میں شمار کرتے ہو خود اپنے ہاتھ سے لکھتے ہو تو پھر تمہیں کلمہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، اب فارم بھر دو۔میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ بتائیں کسی انسان میں جس کا ادنی سا بھی ضمیر ہو معمولی سا بھی ضمیر ہو ،شرافت کا کوئی حصہ اُس کی فطرت کو ودیعت ہوا ہو وہ اس قسم کی بے اصولی حرکت کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا نہیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مجھے پوری طرح سمجھ آگئی ہے کہ بڑا بھاری دھوکا ہے جو دنیا کے ساتھ کیا جارہا ہے اور یقینی طور پر پاکستان کے ہر احمدی کو اُس کے دنیاوی بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے، مذہبی حقوق سے نہیں بلکہ دنیاوی بنیادی حقوق سے بھی۔اب باہر کی دنیا میں اس بات کی بہت بڑی قدر ہے ، بہت بڑی اہمیت ہے۔وہ اس بات سے اتنا متاثر نہیں ہوتے کہ کلمہ کہنے سے روک دیا گیا ہے ، وہ کچھ ہمدردی کی کوشش تو کرتے ہیں مگر سمجھ نہیں سکتے اس بات پر کس طرح انسان کو اتنی بڑی تکلیف پہنچ سکتی ہے مگر یہ جو قصہ ہے کہ جمہوریت کے بغیر بھی حق سے محروم کیا گیا یہ ان کے لیے ایک بہت ہی بڑا اہم قصہ ہے وہ حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ بھی ہو سکتا ہے دنیا میں۔چنانچہ ان سب پہلوؤں سے ساری دنیا کے سامنے جماعت احمدیہ نے ان حالات کو پیش کیا ہے مگر بہر حال وہ سلسلہ اپنی جگہ۔جاری ہے۔میں خلاصہ بیان کرتا ہوں اعداد و شمار میں آنے والے واقعات کا سکھر اور ساہیوال میں جن