خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 375 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 375

خطبات طاہر جلدے 375 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء میں رواج ہے بڑی نازک سی باریک باریک پھلکوں کی طرح کی لچیاں تلتے ہیں۔ تو اُس نے تعجب سے دیکھا یہ کیا کر رہی ہے ۔ تو اُس نے کہا بی بی یہ کیا کر رہی ہو تم ۔ اُس نے کہا میں تو لچیاں تل رہی ہوں ۔ توا تو اپنی پرات انڈیلتے ہوئے اُس نے کہا کہ ہوئے اُس نے کہا کہ پھر میرا بھی بچ تل دو۔ تو وہی حال ان کا لگتا ہے ہر آدمی وہاں کا اس بات میں فخر محسوس کرنے لگ گیا ہے کہ جب یہ سب کچھ ہو رہا ہے میں باہر نہ رہ جاؤں کہیں قوم مجھے کم مسلمان نہ سمجھے۔ ویسے جونیجو صاحب بڑے شریف النفس آدمی ہیں ، سادہ آدمی ہیں مگر وہ بچ تلنے سے کون باز آسکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے بیان دیا اپنے وزیر اعظم بنتے ہی فوراً بعد ۲۸ نومبر ۱۹۸۵ء کے روزنامہ جنگ میں اعلان شائع ہوا ہے۔ اس لعنت یعنی قادیانیت کو پوری قوت سے کچلنے کے لیے تمام اسلامی دنیا بھی ایسے اقدامات کرے گی ۔ یعنی انہوں نے کہا کہ پہلے تو شاید دوسرے حکومت سے تعلق رکھنے والے تو اپنے ملک میں کوششیں کر رہے تھے۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اس موومنٹ کو عالمی بنادوں گا۔ مسلمانوں کے قبرستان کے قادیانی مردے کو نکلوا کر مسلمانوں کو مطمئن کیا جائے ۔ اس قسم کے مطالبات ہر روز کے گند ، ان سب عذابوں سے جماعت احمدیہ کو یعنی انسان کی طرف سے عائد ہونے والے عذاب ، اس قسم کے انسانی عذابوں سے جماعت احمدیہ کو ہر روز ہزار ابتلاؤں سے گزرنا پڑتا ہے۔ جو کار روائیاں کی گئیں ، وہ سب کارروائیاں جیسا کہ میں نے بیان کیا اکٹھی بیان ہو ہی نہیں سکتیں چند میں نے مثالیں دی ہیں۔ جواب گلیوں میں ہر روز ظلم ہورہا ہے احمدیوں پر اُس کی کون سی روئداد ہم ایک جگہ جمع کر سکتے ہیں اور کیسے بیان کر سکتے ہیں۔ طلباء کے ساتھ جو ظلم ہورہے ہیں اُن کو داخلے نہیں ملتے ، جب داخلے ملتے ہیں تو کلاسوں میں ذلیل کیا جاتا ہے۔ اسلامیات مضمون رکھنے سے منع کیا جاتا ہے اور کئی قسم کی رعایتوں سے محروم کر دیا جاتا ہے، حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ ملازمتوں میں جس طرح کی بدسلوکی احمدیوں سے ہو رہی ہے۔ اُن کی ترقیات کا جب وقت آتا ہے تو یہ کہہ کر ترقیات روکی جاتی ہیں کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اوپر بدکلامی کرو تو ہم تمہیں ترقی دے دیتے ہیں ۔ احمدی کہتے ہیں کہ ہم تو ایسی ترقی پر تھوکتے بھی نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی استقامت کے ساتھ بڑی بہادری اور جرات اور صبر کے ساتھ ان مظالم کو