خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 374 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 374

خطبات طاہر جلدے 374 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء کہ جہاں کہیں بھی قادیانی کلمہ طیبہ لکھیں یا اُس کا استعمال کریں۔اُن کے خلاف قادیانی آرڈنینس کے تحت فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے (جنگ لاہور ۲۲ فروری ۱۹۸۸ء)۔قادیانیوں کی جانب سے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے اقدامات روکیں وفاقی وزارت مذہبی امور کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت۔وفاقی حکومت کو مسلسل ایسی شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ قادیانی اپنے مردوں کو ( یہ وفاقی حکومت کی زبان ہے پاکستان کے باشندوں کے متعلق ) کہ قادیانی اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرتے ہیں۔چنانچہ یہ اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ جہاں کہیں بھی کوئی احمدی دفن ہوا ہے اُس کی لاش اُکھیڑ کر باہر پھینک دی جائے۔قادیانیوں کی لائبریری سے کلمہ طیبہ اور بیت الحمد کے الفاظ مٹا دیئے جائیں۔( یعنی بیت الحمد کا لفظ بھی اب وہاں نہ لکھا جائے۔) ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کا بیان جاری ہوا ہے اور ختم نبوت یوتھ فورس کے وفد نے جب ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے ملاقات کی تو اس یوتھ فورس کو ڈپٹی کمشنر نے اس بات سے مطلع کیا کہ یہ ہم کرنے والے ہیں (نوائے وقت راولپنڈی ۲۱ فروری ۱۹۸۸ء) سید غوث علی شاہ صاحب وزیر اعلیٰ سندھ کہتے ہیں ماضی کی حکومتیں علماء سے دور بھاگتی تھیں تبھی بچی ہوئی تھیں بچاری حکومتیں۔اب یہ حکومتیں علماء کے قریب آگئی ہیں اُن کا انجام میں آپ کو بتاؤں گا کیا ہوا ہے۔تو ٹھیک بھا گئی تھیں ، اُن سے بیچاروں سے کیا شکوہ ہے۔کہتے ہیں اس بیان کا خلاصہ یہ تھا کہ ہم نے یہ پالیسی اختیار کی ہے کہ علماء کو اپنے ساتھ لے کے چلے ہیں اُن کا اعزاز کریں اور پھر اُن کو اس مضمون کا ایک شعر یاد آ گیا۔وہ کہتے ہیں ، شعر ہے: کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ ہوئے ہم سے وہ ہمکلام اللہ اللہ یہ ملا ہم سے وزیر اعلوں سے ہم کلام ہونے لگے ہیں یہ مقام پہلے کہاں نصیب تھا کیونکہ زیادہ دیر بیچارے پھر وزیراعلیٰ رہے نہیں۔وزیر اعظم جونیجو صاحب نے کہا کہ جب یہ سب کچھ ہورہا ہے تو میں بیچ میں سے کیوں باہر رہوں۔وہی وہ لچ تلنے والا قصہ یاد آ جاتا ہے۔کوئی زمیندار جا رہا تھا اپنے آٹے کی پرات اُٹھا کر تندور سے روٹیاں لگوانے کے لیے تو رستے میں دیکھا کہ کوئی لچیاں تلنے والی بیٹھی ہوئی تھی۔دتی وغیرہ