خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 361 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 361

خطبات طاہر جلدے 361 خطبه جمعه ۲۰ مئی ۱۹۸۸ء وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا اَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمُ (النور :۲۳) کہ ہرگز وہ لوگ جن کو خدا نے فضل عطا فرمایا ہے، مالی برتری بخشی ہے اور وسعت عطا کی ہے۔ایسی قسمیں نہ کھائیں، ایسے ارادے نہ کریں أَنْ تُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَكِينَ وَالْمُهجِرِينَ فِي سَبِيْلِ اللهِ کہ اللہ کی راہ میں مہاجرین اور اولی القربیٰ اور مساکین کی جو خدمت کیا کرتے تھے۔اُس سے وہ ہاتھ روک لیں وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا وہ درگزر کریں اور عفو سے کام لیں اَلَا تُحبون کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تجھ سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور اللہ بہت ہی غفور ورحیم ہے۔اس میں تین گروہوں کا ذکر فرمایا تو تُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسْكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ۔لیکن جہاں تک ہمیں علم ہے وہ ایک ہی شخص تھا وہ ان میں سے کسی ایک گروہ سے تعلق رکھتا تھا اور جہاں تک تاریخ بتاتی ہے وہ اولی القربی میں سے تھا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں حضرت ابو بکر صدیق کی ایک اصلاح فرمائی گئی ایک پہلو سے اور دوسرے پہلو سے اُن کی دلداری بھی فرما دی گئی یہ فرما کر کہ آپ عادتاً اُن اُولی القربی کی بھی خدمت کرتے ہیں، مساکین کی بھی خدمت کرتے ہیں اور وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ ﷺ کی بھی خدمت کرتے ہیں اور آپ کی شان یہ نہیں ہے کہ کسی بھی تکلیف کے نتیجے میں کسی بھی وجہ سے ان خدمتون سے ہاتھ کھینچ لیں۔اسی وجہ سے یعنی اس مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے ربوہ میں غرباء کی امداد کی کمیٹی کو یہ ہدایت کی کہ آپ جب فیصلے کرتے ہیں فلاں ضرورت مند ہے۔تو اس فیصلے میں امور عامہ سے یہ رپورٹ کیوں لیتے ہیں کہ اُس نے کبھی کوئی جماعت کے خلاف کوئی کام تو نہیں کیا تھا، کبھی اُس نے نظام کی خلاف ورزی تو نہیں کی تھی کیونکہ اگر آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اتنا بھیا نک الزام لگانے والے، اتنا ظلم کرنے والے کے حق کی حفاظت قرآن نے کی تھی تو آج آپ کو کیا حق ہے کہ حقیقی محتاج کی مدد سے اپنے ہاتھ روک لیں اس لیے کہ وہ کسی غلطی کا مرتکب ہے، کسی معاملے میں نظام جماعت سے تعاون نہیں کرتا یا عبادتوں میں کمزوری دکھاتا ہے۔یہ دوالگ الگ مضمون ہیں۔چنانچہ مذہب سے بھی کلیہ اس مضمون کو قرآن کریم نے آزاد کر دیا ہے۔مذہبی اختلاف