خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 360

خطبات طاہر جلدے 360 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء بات نہیں ختم ہوتی۔اسلام اس معاملے میں ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے اور وہ ایسا قدم ہے جو عقل کو حیران کر دیتا ہے۔وہ قدم یہ ہے کہ بعض دفعہ وہاں بھی تمہیں خدمت کرنی پڑے گی جہاں سے تمہیں شدید تکلیف پہنچی ہے ایسے بد باطن لوگوں کی بھی خدمت کرنی پڑے گی تمہیں انسانی آزادی کے نام پر جنہوں نے ظلم کی حد کر دی ہے اور اس پہلو سے انسان کو گویا یہ آزادی ہے کہ وہ تمہیں تکلیف بے شک پہنچائیں لیکن یہ یقین ہونا چاہئے اُن کو کہ قرآن کریم میں جو اُن کے حقوق محفوظ کر دیئے گئے ہیں تم وہ حقوق اُن سے نہیں چھینو گے۔یہ وہ عجیب اور بلند تر مضمون ہے جس سے انسان کی نظر چندھیانے لگتی ہے۔حضرت ابو بکر صدیق کی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہ پر ایک نہایت ہی گندہ اور بھیا نک الزام لگایا گیا۔میں اس پہلو سے ذکر اس لیے کر رہا ہوں کہ حضرت ابوبکر کے متعلق آگے بات آنے والی ہے۔ویسے تو اُمہات المومنین میں سے تھیں اور یہ کہنا چاہئے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کی زوجہ مطہرہ پر الزام لگایا گیا لیکن جو واقعہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں اُس میں یہی تمہید بہتر ہے۔حضرت ابو بکر دل کے بے انتہاء حلیم تھے اور غریبوں کے بہت ہی ہمددرد تھے۔اپنے غریب مفلوک الحال رشتہ داروں کی مدد کرنے والے۔چنانچہ ایک ایسے رشتہ دار کی بھی آپ مدد کیا کرتے تھے جو ان ظالموں میں شامل تھا جنہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ پر الزام لگا دیا۔اب یہ سفا کی کی حد ہے کہ ایک طرف تم اُس کے محتاج ہو مسلسل کسی شخص کے جو اتنا شفیق ، اتنا مہربان ہے کہ مخفی ہاتھوں کے ساتھ دنیا کو پتا ہی نہیں کہ تمہاری مددہورہی ہے ، وہ تمہاری تکلیفیں دور کرنے میں کوشاں ہے اور جو شخص اُس کی پاکیزہ بیٹی کے اوپر ایک نہایت ہی بھیا نک اور گندہ الزام لگاتے ہیں تم اُن کے اندر شامل ہو جاتے ہو۔اس کے نتیجے میں حضرت ابو بکر نے بھی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا حالانکہ بہت حلیم تھے ، صدیقیت کے مقام پر فائز تھے ، اتنا روشن ضمیر تھا اُس کے باوجود آپ نے سمجھا کہ اب تو حد ہوگئی ہے اب اس کے بعد اس شخص نے خود اپنا استحقاق ختم کر دیا ہے اور ایسے ظالم اور سفاک کی امداد کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔قرآنی تعلیم کی عظمت دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے الہاما آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے یہ نصیحت فرمائی اور اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا اور یہ قرآن کریم میں آیت نازل ہوئی وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسْكِينَ وَالْمُعْجِرِينَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ *