خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 359 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 359

خطبات طاہر جلدے 359 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء ہے۔پس اگلی صدی کو ہم لا اله الا اللہ کی تفسیر بنانے کی کوشش کریں گے۔یہ ہے وہ مدعا جس کا میں نے عید پر اظہار کا تھا۔چنانچہ یہ جو چند غلط فہمیاں اُس مضمون سے پیدا ہوسکتی تھیں وہ میں نے آج دور کرنے کی کوشش کی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ آزادی کے قرآنی مضمون کو اس وسیع تر دائرے میں پیش نظر رکھیں گے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ نہ صرف خود آزاد ہونے کی کوشش کریں گے بلکہ تمام دنیا کو کچی آزادی کا پیغام دینے والے ہوں گے اور میں یہ کامل یقین رکھتا ہوں کہ سارے بنی نوع انسان کی آزادی احمدیت سے وابستہ ہے اور احمدیت پر منحصر ہے۔اس لیے آج کی نسلوں کی بہت بھاری ذمہ داری ہے۔ہمیں باشعور طور پر آزادی کے علمبردار بن کر اگلی صدی میں داخل ہونا ہے اور یہ پروگرام اگر چہ احمدیت کے ساتھ ہی آغاز پا چکا ہے لیکن اس طرح باشعور طور پر منصوبوں کی شکل میں انگلی صدی میں یہ Unfold ہونے والا ہے۔یعنی جس طرح فلم کھلتی ہے اور کہانی منظر پر ابھرتی چلی جاتی ہے۔اسی طرح انشاء اللہ تعالیٰ اگلی صدی میں جماعت احمدیہ کی آزادی کے معاملے میں جد وجہد نمایاں نقوش بن کر اُبھرے گی اور دُنیا اس سے زیادہ سے زیادہ متعارف ہوتی چلی جائے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی کما حقہ تو فیق عطا فرمائے۔قرآن کریم میں جو اس ضمن میں مختلف پہلو بیان فرمائے ہیں۔اُن سے متعلق یہ کچھ آیات میں نے اکٹھی کی تھیں تا کہ آج اُس پر روشنی ڈالوں گا۔لیکن یہ جو وضاحتیں تھیں انہوں نے ہی سارا وقت لے لیا ہے۔اس لیے آئندہ بھی مختلف مضامین کے بیان کے وقت میں انشاللہ تعالیٰ ان امور کی یاد دہانی آپ کو کروا تارہوں گا۔اس وقت صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام کا جو آزادی کا تصور ہے یعنی غریب کی غربت دور کرنے میں آزادی کا تصور وہ اتنا بلند اور اتنا عظیم الشان ہے کہ اُس کی گنہ کو پانا تو کیا اُس کی جوتیوں کی خاک کو بھی دوسرا کوئی دنیا کا فلسفہ پہنچ نہیں سکتا۔عام طور پر یہ میں نے جیسا کہ بیان کیا تھا یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جب آپ کسی کی ضرورت پورا کرتے ہیں تو اُس سے مقابل پر اُس سے احسان کا تصور یا اُس سے احسان کی تمنا نہیں کرتے۔یہ ایک نہایت اعلیٰ چیز ہے اور گویا اسلامی تعلیم صرف یہیں تک محدود ہے کہ جب بھی آپ کسی کی خدمت کریں مقابل پر اُس سے کچھ بدلہ نہ چاہیں لیکن یہیں