خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 357 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 357

خطبات طاہر جلدے 357 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء اُبھارنے کے لیے بنیادی محرک یہی رہتا ہے کہ اٹھو اور چھین لو۔اگر تم مزدور ہو اور سرمایہ کارانہ علاقے میں رہتے ہوتو ہڑتالوں کے ذریعے یا جہاں تک بس چلے توڑ پھوڑ کے ذریعے اپنے مالکوں سے زیادہ سے زیادہ چھینے کی کوشش کرو اور اشترا کی پیغام یہ ہے کہ تم اپنے مالکوں کے سارے نظام کو اکھیڑ پھینکو اور ہر جائیداد پر قبضہ کر لو اور ہر دولت کے ذریعے کو اپنا لویہ تمہاری زندگی اور امن کا پیغام ہے۔ان دونوں پیغاموں کے نتیجے میں ایک ایسی بے اطمینانی جنم لیتی ہے، چھینا جھپٹی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ وہ ممالک جواشترا کی ممالک ہیں۔اُن میں بھی سب کچھ حاصل ہونے کے باوجو دطلب باقی رہ جاتی ہے اور زبردستی ڈنڈے کے ذریعے اس آزاد کیے ہوئے جن کو دوبارہ بوتل میں کھسیڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔چنانچہ اس کے نتیجے میں ایک اور غلامی پیدا ہوتی ہے۔جس کے لیے اشترا کی حکومتیں مجبور ہیں۔وہ جب بھی اپنے نظام میں نرمی پیدا کریں ذراسی بھی۔جس طرح آج کل ہمارے روس کے پریذیڈنٹ گوربا چوف صاحب کوشش کر رہے ہیں۔اُس کے نتیجے میں تھوڑی سی بھی وہ کوشش کرتے ہیں اور اچانک لوگوں کی توجہ حقوق کو لینے کی طرف اور پھر حقوق سے بڑھ کر لینے کی طرف شروع ہو جاتی ہے اور اس تضاد میں پھنس کر یہ لوگ بے اختیار ہو جاتے ہیں۔آزادی دینا بھی چاہیں تو دے نہیں سکتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ آزادی دینے کا مطلب یہ ہے کہ حقوق کی تمنا آزاد کرو اور حقوق کی تمنا آزاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پھر ساری حدیں قوم پھلانگ جائے۔یہ تجربے روس کے بعض حصوں میں ابھی سے نہ صرف نا کام ہو چکے ہیں بلکہ خطرات کی گھنٹیاں بجا رہے ہیں اور آرمینیا وغیرہ کے علاقے میں جو فسادات ہوئے ہیں حال ہی میں وہ اسی گوربا چوف کی آزادی پالیسی کے نتیجے میں ہوئے ہیں۔پس آپ غور کر کے دیکھیں کہ اس قسم کے اقتصادی پروگرام جیسے کہ دنیا کا فلسفہ پیش کرتا ہے محتاج ہیں غلامی کے اور غلامی کے بغیر چل نہیں سکتے۔یہ تو میں مجبور ہو جاتی ہیں اپنے ادنی طبقات کو غلام بنانے ، غلام رکھنے پر اور غلامی سے آزادی کے نام پر جو وسیع اشترا کی ممالک وجود میں آئے ہیں۔وہ چل نہیں سکتے اگر وہ خود غلامی کی زنجیریں مضبوط نہ کریں اور انہیں ہمیشہ قوم کو پہنائے نہ رکھیں۔سیہ وہ غیر اسلامی فلسفہ ہے اس کے مقابل پر قرآنی فلسفہ دیکھیں کہ کتنا عظیم الشان آزادی کا پیغام لاتا ہے۔نفس کی آزادی تمناؤں سے ، خواہشات سے اُن کو معتدل کرنا ، عزت نفس کا قیام کرنا